تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 465
تاریخ احمدیت۔جلد 22 465 سال 1964ء علاوہ ازیں حضرت بایزید بسطامی۔حضرت شیخ احمد سرہندی مجد دالف ثانی۔حضرت معین الدین چشتی اجمیری۔مشہور صوفی حضرت فضیل بن عیاض۔حضرت مولانا نیاز رحمۃ اللہ یھم۔ان کے مفصل حوالہ جات بطور فہرست ب لف ہذا ہیں۔۱۸۔پھر قرآن مجید، حدیث نبویہ اور بزرگوں کی تصریحات کے مطابق امت میں مسلّم ہے کہ مسیح موعود اور مہدی معہود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں محمد اور احمد کا نام پائے گا اور قلی طور پر نبی کہلائے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی سے فنافی الرسول 69 ہو کر اُسے احمد اور محمد کے نام سے پکارا جائے گا۔اس سلسلہ میں ہم نے حضرت امام شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی۔جناب نواب صدیق حسن خانصاحب آف بھوپال۔شیعوں کے مجتہد علامہ باقر مجلسی۔حضرت خواجہ غلام فرید صاحب وغیرھم بزرگوں کے حوالہ جات درج کر دیئے ہیں۔ا بحار الانوار میں لکھا ہے سمّى الله المهدى المنصور كما سمّى احمد ومحمد و محمود كما سمّى عيسى المسيح 0 ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مہدی کا نام منصور رکھا ہے جس طرح اس کا نام محمد احمد او محمود رکھا گیا نیز اسے عیسی مسیح کہا گیا۔پھر یہ حقیقت امت میں اس قدر مشہور ہے کہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے اپنے اشعار میں مرد مومن کے لئے ان ناموں کا پانا اور صاحب لولاک ہونا لازمی قرار دیا ہے ایسے حوالہ جات فہرست ج میں ملاحظہ فرمائے جائیں۔۱۹۔جہاں تک بروز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے متقدمین اس عقیدہ کے حامل رہے ہیں جیسا کہ ضمیمہ د کے حوالہ جات سے عیاں ہے۔اس لئے جہاں تک اس دعویٰ کا تعلق ہے اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ محل اعتراض نہیں۔شکایت کنندگان کے نزدیک وجہ شکایت صرف اس حد تک ہے کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے یہ دعویٰ کیوں کر دیا؟ جماعت احمدیہ کے عقیدہ کی رُو سے بانی جماعت احمد یہ وہی مسیح اور مہدی ہیں جن کا انتظار امت محمدیہ کرتی چلی آئی اور کتاب زیر اعتراض میں بانی جماعت احمدیہ نے اپنا منصب اور مقام بیان فرمایا ہے۔ہمارا مذہب ہے کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ السلام اپنے تمام دعاوی میں صادق ہیں اور ہم ان دعاوی پر ایمان لانا ضروری سمجھتے ہیں۔اسی لئے یہ بات واضح ہے کہ کتاب مذکور کی ضبطی جماعت