تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 463 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 463

تاریخ احمدیت۔جلد 22 463 سال 1964ء ۱۲۔ہم یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے مبلغ دنیا کے ہر حصہ میں پاکستان کی نیک نامی اور خیر خواہی پھیلانے کا موجب ہیں۔بیرون پاکستان دنیا کی نظر میں پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں سے منتظم اور وسیع طریق پر ایک جماعت کے ذریعہ تبلیغ اسلام ہورہی ہے۔یہ اثر پاکستان کے حق میں دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے اور اس ضبطی کے حکم سے نہ صرف دنیا کے مختلف حصوں میں موجود احمدیوں کے اندر ایک اضطراب پیدا ہوگا بلکہ دوسرے لوگ بھی برا اثر لیں گے کہ مذہبی آزادی جو پاکستان کے آئین میں دی گئی ہے اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔یہ اثرات اور نتائج پیش پا افتادہ اور یقینی ہیں۔۱۳۔کسی شخص یا جماعت کے مذہبی عقائد اصولاً اور قانون وہی ہوتے ہیں جو وہ شخص خود بیان کرے نہ کہ وہ جو مخالفین کی طرف سے اس جماعت یا شخص کی طرف منسوب کئے جائیں۔ہماری جماعت کے عقائد وہی ہیں جو بانی جماعت احمدیہ نے قرآن وحدیث کی رُو سے ہم پر واجب کئے ہیں اور ان عقائد کا اصل اصول اور نقطہ مرکزی بانی جماعت احمدیہ کے ان نعتیہ اشعار سے ظاہر ہے۔مامسلمانیم از فضل خدا مصطفی مارا امام و پیشوا یک قدم دوری ازان عالی جناب نزد ما کفر است و خسران و تباب پس اس عقیدہ کی روشنی میں ضبط شدہ کتاب کے مضامین کی تعبیر ہونی چاہیئے نہ کہ اس کے برعکس۔جماعت احمدیہ کے عقائد کی ایک فہرست شامل عرضداشت ہذا ہے۔ملاحظہ ہوفہرست الف جس سے ظاہر ہوگا کہ ہمارے مخالفین نے ہمارے عقائد کے متعلق جو پروپیگنڈا آج تک کیا ہے وہ سراسر بے بنیا د اور تہمت اور الزام ہے۔۱۴ کسی حکومت کی حقیقی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ اس کی رعایا کے کسی قلیل التعداد فرقہ یا جماعت پر کوئی جبر اور تشدد نہ کر سکے اور اس کے معاشرتی تمدنی اور مذہبی حقوق ایسے ہی محفوظ ہوں جیسا کہ دوسروں کے۔بلکہ تھوڑی تعداد والے فرقہ یا جماعت کے حقوق کی حفاظت زیادہ احتیاط کی مستحق ہوتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کی ضبطی میں یہ اصول نادانستہ نظر انداز ہو گیا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ متعصب اور غالی عناصر جو ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں اس نظیر سے یہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اٹھائیں گے کہ اسلامی فرقے ایک دوسرے کے پرانے شائع شدہ لٹریچر کو بھی ضبط کرانے کی دوڑ دھوپ کریں اور ملک میں فتنہ کی آگ بھڑ کانے کی کوشش کریں گے۔