تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 462
تاریخ احمدیت۔جلد 22 462 سال 1964ء کرنے کا ایک نیا حیلہ ہاتھ آیا ہے۔ظاہر ہے کہ ۱۹۴۸ء میں بعض شر پسند عناصر نے ایک بہانہ بنا کر جماعت احمدیہ کے خلاف شورش شروع کی یہ بگولہ بڑھتے بڑھتے ۱۹۵۳ء کی آندھی پر منتج ہوا۔موجودہ حکومت نے بڑی حکمت عملی سے ان مخالف پاکستان عناصر کود با دیا تھا اور یہ امر ملک کے امن واطمینان کیلئے بڑا مفید اور ممد ثابت ہوا تھا۔لیکن کتاب مذکور کی ضبطی گویا ۱۹۴۸ء والے ابتدائی حالات پیدا کرنے کا موجب ہوسکتی ہے اور یہ امر حکومت کی خاص توجہ کے قابل ہے۔یہ تخریبی عناصر اس ضبطی کو ایک نظیر بنا کر یقیناً آگے بڑھنا چاہیں گے اور روز بروز جماعت احمدیہ کے لٹریچر کے متعلق شورش اور ہنگامے پیدا کرنے سے گریز نہیں کریں گے اور بات کسی جگہ رکنی محال ہوگی اور معلوم نہیں کہ اس ابتداء کی انتہا کہاں پر ہوگی۔۔علاوہ بریں صرف جماعت احمدیہ کا ہی سوال نہیں بلکہ مسلمانوں کے مختلف فرقے مثلاستنی ، اہل تشیع ، دیوبندی، بریلوی، اہل قرآن وغیرہ ایک دوسرے کے بنیادی اور پرانے لٹریچر کو آئے دن ضبط کرانے کی طرح ڈالیں گے اور ایک ایسا دور و تسلسل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جو کہیں جا کر ختم نہ ہوگا۔بطور ایک وفادار جماعت کے ہم اپنا فرض جانتے ہیں کہ ان ناگوار نتائج سے حکومت وقت کو بر وقت آگاہ کر دیں اور یہ نتائج ایسے دور رس ہو سکتے ہیں جو دانا حکام کی نظر سے اوجھل نہیں ہونے چاہئیں۔۹۔کتاب زیر نظر تو ایک مذہبی عقیدہ کی وضاحت کرنے والی ہے اور کوئی منافرت گذشتہ ۶۳ سال میں اس سے پھیلنی ثابت نہیں۔لیکن اس کتاب کی ضبطی بجائے خود ایک منافرت اور شورش کو دعوت دے رہی ہے اور مزعومہ علاج بجائے خود ایک مرض کی حیثیت رکھتا ہے۔۱۰۔یہ بھی ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف ایسا لٹریچر موجود ہے جس میں احمدیوں کو واجب القتل تک قرار دیا گیا ہے اور ان پر ظلم وستم کرنا جائز قرار دیا گیا ہے۔یہ منافرت انگیز لٹریچر تو بدستور شائع اور قائم ہے لیکن احمدیوں کے عقیدہ پر مبنی ایک کتاب کو ضبط کیا گیا ہے یہ تقابل نہایت ہی اندوہناک ہے اور کسی ناقد بصیر سے یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ا۔اس ضبطی سے متعصب ملاؤں کو ایک بہانہ مل گیا ہے جس سے وہ پورا فائدہ اٹھائیں گے اور شہروں اور دیہات میں دور و نزدیک شورش پیدا کریں گے۔یہ امر ہم اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بناء پر پیش کر رہے ہیں نہ کہ محض تصور اور خیال کی رُو سے۔