تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 433
تاریخ احمدیت۔جلد 22 433 سال 1964ء 43 آئی جس کے صدر مرزا عبد الحق صاحب مقرر ہوئے۔(۴) حضور کے ارشاد فرموده ۲۱ جولائی ۱۹۴۴ء (الفضل ۴ راگست ۱۹۴۴ء) کی روشنی میں لاہور ، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، چٹا گانگ اور راج شاہی میں مرکز قائم کئے جائیں جن کے قیام کی ذمہ داری مرکز سلسلہ پر ہو۔ان مراکز میں مساجد، لائبریریاں، مہمان خانے اور مربی سلسلہ کی قیام گاہ بھی ہو۔مجلس شوری سفارش کرتی ہے کہ نگران بورڈ اس پر غور کرے اور جو مناسب سمجھے فیصلہ کرے۔یہ مجلس مشاورت خلافت ثانیہ اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی حقانیت کا ایک چمکتا ہوا نشان تھی وجہ یہ کہ حضرت مصلح موعود نے مارچ ۱۹۱۴ء میں جب خلافت کی باگ ڈور سنبھالی صدرانجمن احمدیہ کا خزانہ خالی تھا اور صرف چند آنوں کے پیسے باقی تھے لیکن پچاس سال بعد ۱۹۶۴ء کی مجلس مشاورت میں جماعت احمدیہ پاکستان کے مرکزی اداروں کا جو سالانہ بجٹ حضرت مصلح موعود نے منظور فرمایا وہ تریسٹھ لاکھ چھ ہزار چونتیس روپے کی خطیر رقم پر مشتمل تھا ( مرکز احمدیت قادیان کا بجٹ اس کے علاوہ تھا )۔جس کی تفصیل یہ ہے:۔بجٹ صدر انجمن احمد یہ پاکستان :۲۸٬۸۷،۲۶۴ بجٹ تحریک جدید : بجٹ وقف جدید : ۳۲،۴۸،۷۷۰ 461۔*۔*** اس مجلس مشاورت کے آخر میں صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے حضرت مصلح موعود کی صحت کی طبی رپورٹ پیش فرمائی اور خاص طور پر بتایا کہ میرے یقینی علم کے مطابق حضور جو پیغامات جماعت کے نام بھجواتے ہیں وہ حضور ہی املاء کرواتے ہیں اسی طرح سلسلہ کے تمام ضروری امور حضور کی خدمت اقدس میں پیش کئے جاتے ہیں حضور بنفس نفیس ان پر مناسب ارشادفرماتے اور فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے اختتامی خطاب میں فرمایا کہ:۔یہ مشاورت اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔مجھے دوران کارروائی یہ بات سختی سے محسوس ہوتی رہی ہے کہ میں دوستوں پر وقت کی کمی کی وجہ سے پابندی لگارہا ہوں ایسے دوستوں پر جو میرے مخدوم ہیں اور میں اپنے دل کو ٹو لتا تھا تو میں ندامت محسوس کرتا تھا۔آپ نے جو ایجنڈا مجھے دیا ہے اس کے لحاظ سے یہ کاروائی 11 بجے ختم ہونی چاہئے تھی۔اور اس وقت ہم پونے دو بجے پر پہنچ گئے ہیں۔اس سے