تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 432 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 432

تاریخ احمدیت۔جلد 22 432 سال 1964ء کلاس کھولیں تو سب کمیٹی صدر انجمن سے یہ سفارش کرتی ہے کہ وہ معلم حافظ صاحب کی تنخواہ کا ۵۰ فیصدی اس جماعت کو بطور امداد دے۔اس وقت ربوہ کی حافظ کلاس میں صرف صبح کے وقت تعلیم دی جاتی ہے اور وہ سب چھٹیاں بھی دی جاتی ہیں جو کہ عام سکولوں کے لئے مقرر ہیں۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ طلباء اتنی جلدی قرآن کریم حفظ نہیں کرتے جتنی جلدی کہ انہیں کرنا چاہیئے۔لہذا سب کمیٹی یہ تجویز کرتی ہے کہ حافظ کلاس میں دونوں وقت تعلیم دی جائے اور سوائے جمعہ یا عیدین کے دوسری تعطیلات نہ دی جائیں اور اگر یہ محسوس ہو کہ ایک معلم اتنا کام نہیں کرا سکتا تو دوسرے حافظ معلم کی خدمات حاصل کی جاویں۔نیز سب کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ چونکہ حافظ بچوں کو کافی دماغی کام کرنا پڑتا ہے اس لئے علاوہ مناسب غذا کے انہیں دودھ بھی دیا جائے“۔(۲) ربوہ کی جامع مسجد نقشہ کے مطابق تعمیر کرائی جائے اور اس کے لئے بجٹ ۶۵-۱۹۶۴ء میں ایک لاکھ روپیہ مشروط بآمد رکھا جائے۔علاوہ ازیں صدر انجمن احمدیہ مسجد مبارک کی توسیع پر فوری طور پر غور کرے تا وہ نئی ضروریات کے لئے ملتفی ہو سکے۔41 (۳) نگران بورڈ قائم رہنا چاہیئے۔ممبران بورڈ کی کل تعداد دس ہوگی۔جس میں سے ایک ممبر مشرقی پاکستان کا صوبائی امیر ہوگا۔تین ممبران صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ، صدر صاحب تحریک جدید ، صدر صاحب وقف جدید ہوں۔اور چھ ممبران ان کے علاوہ ہوں گے۔نگران بورڈ کے ممبران کا انتخاب امراء اضلاع و علاقائی امراء پاکستان کریں گے۔کراچی کے امیر ضلع کے امیر شمار ہوں گے۔یہ ممبر امراء سے بھی چنے جاسکتے ہیں اور باہر سے بھی۔ممبران تین سال کے لئے چنے جائیں گے۔بعد کے انتخابات میں ان کا چناؤ ممنوع نہ ہوگا۔فرائض نگران بورڈ) صدر انجمن احمدیہ، تحریک جدید، وقف جدید کے کاموں کی نگرانی کرنا۔جماعت کی ترقی کی تجاویز کرنا۔صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید اور وقف جدید میں رابطہ قائم کرنا۔۱۰ ے کی اکثریت سے جو امر فیصلہ کیا جائے وہ متعلقہ ادارہ کے لئے قابل پابندی ہو گا۔صدر نگران بورڈ تین سال کے لئے منتخب کیا جائے۔صدر کا انتخاب ممبران نگران بورڈ اپنے میں سے کریں گے۔ہر سہ ادارہ جات کے صدر بطور صدر نگران بور ڈ نہیں ہو سکیں گے۔صدر کا انتخاب محض اکثریت سے ہوگا۔مناسب بجٹ کا انتظام صدرانجمن احمد یہ کرے گی۔اس سفارش کے مطابق حضرت مصلح موعود کی منظوری سے ایک اور نگران بورڈ کی تشکیل عمل میں