تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 434
تاریخ احمدیت۔جلد 22 434 سال 1964ء آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ جو آپ کی مشکل ہے وہ میری بھی مشکل ہے۔اور اگر میں بعض دوستوں کو محدود نہ کرتا تو یہ ایجنڈا ختم نہیں ہو سکتا تھا۔یہ میری معذوری سمجھیں یا میری مجبوری۔بہر حال اگر کسی دوست نے محسوس کیا ہو کہ میں نے بے جا پابندی لگائی ہے تو میری معذرت کو قبول فرماویں۔ہم نے جلسہ کے اوقات جو پہلے ہوا کرتے تھے ان میں بھی کمی کر دی ہے۔بہر حال یہ معاملہ اب نہیں کہ میں اس پر کوئی اظہار رائے کر سکوں جو منتظمین ہیں وہ غور کر لیں تا کہ آئندہ وقت کی قلت مانع نہ ہو۔بلکہ ضروری امور پورے طور پر زیر غور آجائیں۔اس کے بعد میں اس لحاظ سے کہ وَ ذَكَّرُ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الذريت: ۵۶) یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب شوری قائم ہوئی تو اس کا منشا جو حضرت صاحب نے مقرر کیا۔اللہ تعالیٰ اور قرآن شریف کی تعلیم کے مطابق وہ یہی تھا کہ شوریٰ کی غرض صرف مشورہ کا حصول ہے۔دینی امور میں ترقی اور بہتری کیلئے خواہ ترقی اور بہتری بیرونی جماعتوں کے متعلق ہو خواہ ترقی مرکز کے متعلق ہو اس سے زیادہ نہیں۔اور وہ مشورہ خلیفہ وقت کی منظوری کے ساتھ نافذ ہوتا ہے دنیوی پارلیمنٹوں کی طرح نہ تو اس میں کوئی پارٹی بازی ہے اور نہ ہی رائے دینے والوں کو یہ اصرار ہوتا ہے کہ میری رائے کیوں نہیں مانی گئی۔اور لازمی طور پر مانی جانی چاہیئے۔یہ ہمارا قطعا مقصد نہیں ہے۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے سینوں کو ٹولیں کہ ہم کیا کر کے آئے ہیں اور مرکز نے کیا کیا ہے۔بالفاظ دیگر ربوہ میں ایک حوض ہے مرکز کا۔اس حوض میں آپ سب پانی پہنچاتے ہیں۔آپ نے دیکھنا یہی نہیں کہ حوض نے کیا کام کیا۔بلکہ آپ نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ حوض میں آپ نے کتنا پانی پہنچایا ہے۔اور اگر مرکز کے اندر کوئی کمی ہے اور اگر کسی بات کو آپ محسوس کرتے ہیں کہ فلاں کام نہیں ہوا۔تو اس بات کو بھی مد نظر رکھیں کہ آپ نے وہاں پانی نہیں پہنچایا اور جو شخص بھی نکتہ چینی کرے اسے مدنظر رکھنا چاہیئے کہ دنیا میں سب سے آسان چیز نکتہ چینی ہے اور مشکل چیز نکتہ آفرینی ہے ھے دوسرے کی آنکھ میں گر تیر ہے دیکھ تیری آنکھ میں شہتیر ہے اس بات کو کبھی نہ بھلا ئیں اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ہمارے مشورے سلسلہ کی ترقی اور اپنی حالت کا جائزہ لینے کے لئے ہیں۔ہم اس شوری میں شامل ہوتے رہے ہیں اور اسی نیت سے ہم اس شوری سے علیحدہ ہوئے ہیں کہ ہم نے اپنی ضروریات اور ہمارے تجربہ میں جو نقائص آئے ہیں وہ پیش کر دیئے ہیں۔آگے ہم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں کہ جو کمی ہے وہ اسے دور کرے اور ہمارے