تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 431 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 431

تاریخ احمدیت۔جلد 22 431 سال 1964ء یا بعد میں کسی امر میں بحث و تمحیص کرنا یا رائے دینا ہو۔یہ تمام مراحل ایسے ہیں جن میں ہمیں اس بات کو خاص طور پر مدنظر رکھنا پڑے گا کہ ہماری ذمہ داری پہلے سے زیادہ ہے۔ہمارا ماحول پہلے سے قدرے مختلف ہے۔ہم نے ۴۵ سال میں یہ سبق پڑھا ہوا ہے۔پس ہمیں ثابت کرنا چاہئے کہ وہ سبق جو ہمیں حضرت صاحب پڑھاتے رہے ہیں بھولا نہیں۔اس لئے اس مجلس کی جو کارروائی ہو وہ سہولت ، اطمینان تحمل اور وقار سے عمل میں آنی چاہیئے۔میں امید کرتا ہوں کہ تمام نمائندے اس بات میں پورے طور پر تعاون کریں گے اور جس قدر ہمارے ادارے ہیں ان کے کارکن بھی اس بات کو ذہن نشین رکھیں گے۔یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس قدر بھی صحابہ ہوئے ہیں اور ان کے اندر ہم نے حضرت صاحب کی صحبت کے نتیجہ میں جو وصف پایا ہے اس کا ماحصل اور اس کا لب لباب ایک ہی امر تھا کہ وہ بچے وفادار تھے اور مشکل حالات میں ہی وفاداری کا امتحان لیا جایا کرتا ہے۔ان مختصر الفاظ کے ساتھ میں اس مجلس کی کارروائی کو شروع کرنا چاہتا ہوں یہ امید اور یقین رکھتے ہوئے کہ میرے یہ الفاظ جو میرے دل کی آواز ہیں آپ کے دلوں تک پہنچ چکے ہیں۔مجلس شوری نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضرت مصلح موعود کی دعاؤں کی برکت سے نہایت گہری نظر اور تفصیلی رنگ میں جملہ امور پر غور و فکر کیا۔اور تفصیلی بحث کے بعد نہایت اہم سفارشات اور تجاویز پیش کیں جنہیں حضرت مصلح موعود نے مکمل طور پر منظور فرمالیا۔۔ذیل میں مشاورت کی چار ضروری سفارشات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔B9 (۱) مرکز اور جماعتوں کی طرف سے ملازمتوں اور تجارتوں سے فارغ شدہ دوستوں کو تحریک کی جائے کہ وہ قرآن کریم حفظ کریں۔معلمین اور مربیان و دیگر کارکنان کو بھی تحریک کی جائے کہ وہ قرآن کریم حفظ کریں۔سب کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ جو معلمین و مربیان و دیگر کارکنان اس تحریک پر عمل کرتے ہوئے قرآن مجید حفظ کر لیں۔انہیں دیگر اسی قسم کے ملازمین پر فوقیت دی جائے۔مرکز میں ایک حافظ کلاس جاری ہے لیکن اس میں طلباء کی کمی ہے۔بیرونی جماعتوں کو اپیل کی جائے کہ وہ اپنے بچے اس جماعت میں داخل کریں۔لیکن چونکہ بعض والدین چھوٹے بچوں کو اپنے سے جدا کرنے میں رضامند نہیں ہوتے۔اس لئے دس بڑی جماعتوں مثلاً کراچی، ڈھاکہ، لاہور، راولپنڈی، پشاور ، سیالکوٹ وغیرہ کو اگر وہ کم از کم آٹھ بچے داخل کر کے حفاظ کے لئے اپنے ہاں ایک