تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 28
تاریخ احمدیت۔جلد 22 ☆ 28 سال 1963ء احمد یہ کمیونٹی کے جاپانی نژاد ممبروں کے جنرل سیکرٹری ( نور احمد ) ہیکاردوٹا کاری نے صدر پاکستان کی خدمت میں لکھا:۔اس اقدام سے ہم احمدیوں کے جذبات شدید طور پر مجروح ہوئے ہیں کیونکہ عیسائی اپنی بائبل کو جتنا مقدس اور واجب التعظیم سمجھتے ہیں ہم احمدی اپنے سلسلہ کے بانی حضرت احمد علیہ السلام کی تحریرات کو اس سے کم مقدس اور واجب التعظیم نہیں سمجھتے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو حکومت کا یہ اقدام بائبل یا ایسی ہی کسی مقدس کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد کرنے کے مترادف ثابت ہوتا ہے۔اسے ہم لاعلمی سے تعبیر کر سکتے ہیں یا پھر بعض ملازمین کے تعصب سے۔ہم جماعت احمدیہ کے جاپانی اراکین عیسائیت، شنٹوازم اور بدھ مت وغیرہ مذاہب کو ترک کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں۔ہم کو اسلام کی طرف کھینچ لانے کا ذریعہ حضرت احمد علیہ السلام کی ذات اور آپ کی تحریرات ہی تھیں اس لحاظ سے ہمیں حکومت مغربی پاکستان کا یہ اقدام اسلام دوستی پر ہی نہیں بلکہ عیسائیت نوازی پر 31- مینی نظر آتا ہے۔ہم جاپانی ممبران جماعت احمدیہ حکومت کے اس غیر مناسب اقدام کے خلاف پر زور احتجاج کرتے ہیں۔یہ اقدام مذہبی آزادی کے بنیادی انسانی حق کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حق تلفی کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے اور ایسے اقدامات عمل میں لائے جائیں جن سے اس امر کی ضمانت مل سکے کہ آئندہ کسی ایسے اقدام کا اعادہ ممکن نہیں ہوگا۔یہ چیز بیرونی دنیا میں آپ کے ملک کے وقار کو بڑھانے اور اسے سر بلند کرنے کا موجب ہوگی۔سٹاک ہائم (سویڈن ) کے نواحمدی سیف الاسلام محمودار کسن اعزازی مبلغ نے لکھا۔ہم پوری شدت کے ساتھ ضبطی کے اس حکم کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور حضرت احمد علیہ السلام نے اس کتاب میں اسلام پر سراج الدین نامی ایک عیسائی کی طرف سے کئے گئے اعتراضوں کا ہی جواب دیا ہے۔کتاب دیگر ادیان اور علی الخصوص عیسائیت کے بالمقابل اسلام کے حق میں بہت سے مضبوط دلائل پر مشتمل ہے۔ایک اسلامی مملکت کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ وہ ایک ایسی تحریک کا ہاتھ بٹائے جس نے ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔نہ یہ کہ وہ اس کے لٹریچر کو ضبط کر کے اشاعت اسلام کی راہ میں رکاوٹیں