تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 29 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 29

تاریخ احمدیت۔جلد 22 29 سال 1963ء کھڑی کرے۔یہ اقدام اس لئے بھی نا قابل فہم ہے کہ اس کا یہ لٹریچر تو پاکستان کے ابتدائی ایام سے ہی آزادانہ طور پر اشاعت پذیر ہوتا چلا آ رہا ہے۔عبدالکریم ڈنکر (Abdul Karim Duncker) نائب صدر جماعت ہائے احمد یہ مغربی جرمنی نے صدر پاکستان کی خدمت میں حسب ذیل تار دیا۔ہمارے جان و دل سے عزیز امام مقدس بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلواۃ والسلام کی کتاب کی ضبطی ہمارے جذبات کو انتہائی طور پر مجروح کرنے کا موجب ہوئی ہے۔اسلام اور پاکستان کے لئے احمدی غیر معمولی قربانیاں کر رہے ہیں جرمنی میں احمدی جماعتیں اس کے ایک زندہ ثبوت کی حیثیت رکھتی ہیں۔آپ اس معاملہ میں براہ راست مداخلت فرما کر حکومت مغربی پاکستان کے اس حکم کو منسوخ کرائیں۔ہم انصاف کے طالب ہیں۔مکرم بشیر بلوچر صاحب (Bashir Blucher ) سیکرٹری جماعت احمدیہ مغربی جو منی تحریر کرتے ہیں کہ جماعت احمد یہ ہمبرگ (مغربی جرمنی ) نے متفقہ قرارداد پاس کی کہ:۔ہم یہ امر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم جرمنی کے احمدی ہیں۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو پڑھ کر ہی اسلام قبول کیا ہے۔مغربی ممالک میں ان کتابوں نے اسلام کے حق میں ایک ہلچل مچادی ہے۔ہم احمدیوں پر ایک نہایت ضروری فریضہ کے طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم احمدیت کے پیغام کو ساری دنیا تک پہنچائیں۔اس اہم فریضے کی ادائیگی صرف اور صرف جماعت احمد یہ کے لٹریچر کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔حکومت مغربی پاکستان نے مفاد اسلام کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی کی ہے۔یہ خبر ہمیں شدید صدمہ پہنچائے اور ہلائے بغیر نہ رہ سکی۔اس لئے ہم اپنے پورے دل کے ساتھ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔مکرم محمد در جنانی صاحب لبنان تحریر کرتے ہیں کہ لبنان کے احمدیوں نے گہرے رنج و غم اور درد و الم کا اظہار کرتے ہوئے عربی میں ایک متفقہ قرارداد پاس کی۔اس کے ایک حصہ کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔ہمیں اس بات کا یقینی علم ہے کہ ہمارے امام نے جو کتابیں تصنیف فرمائی ہیں وہ پاک اور نہایت عمدہ اور قیمتی ہیں اور اس زمانہ میں اسلام کی تقدیں اور اس کی بلندشان کی علمبردار ہیں پھر اس زمانہ میں بحث و تمحیص کے طریقے اور دینی علمی اور اصلاحی میدان میں اعلیٰ پایہ کی تفسیر جو