تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 27
تاریخ احمدیت۔جلد 22 27 سال 1963ء رکھنے والے مسلمانوں نے مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی اسلامی خدمات کو کس نظر سے دیکھا! مگر اس کے مقابل پر آج کے مسلمان حکام جبکہ ملک میں عیسائی مشنریوں کا سیلاب آ رہا ہے حضرت مرزا صاحب کی کتابوں کے متعلق کیا رویہ اختیار کر رہے ہیں؟ دنیا کی حکومتوں کو یا درکھنا چاہیئے کہ اُن کے سروں پر ایک خدا کی حکومت بھی ہے اور وہ اُن کی نا انصافی کو دیکھ رہا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے علاوہ سید داؤد احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ نے اخبار الفضل میں ”نار واضبطی کے عنوان سے اور مکرم مسعود احمد صاحب دہلوی نے ” عیسائیت کا سحر باطل کر دکھانے میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا عظیم الشان کارنامہ کے زیر عنوان پر اثر اور مبسوط مضامین سپرد قلم فرمائے اسی طرح مولانا شیخ نور احمد صاحب منیر، مولانا غلام احمد فرخ صاحب مربی سلسلہ احمدیہ کے بھی عمدہ نوٹ شائع ہوئے۔مرکز احمدیت کے احتجاج کی گونج سارے ملک اور پھر ساری دنیا میں سنائی دینے لگی۔ہر جگہ ایک تہلکہ مچ گیا اور پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی احمدی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی قرار دادوں، مراسلوں اور تاروں کا تانتا بندھ گیا۔جن کے ذکر سے اس دور کا الفضل بھرا پڑا ہے۔جہاں تک بیرونی ممالک کی احمدی جماعتوں کا تعلق ہے ان کا رد عمل بھی انتہائی شدید تھا خصوصاً اُن مخلصین کا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بے نظیر دینی لٹریچر کے طفیل دولت اسلام نصیب ہوئی۔چنانچہ سوئٹزر لینڈ کے نو مسلموں نے ایک متفقہ قرارداد پاس کی جس میں ضبطی پر پر زور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ صوبائی حکومت نے اس کتاب کو ضبط کیا ہے جو ان عظیم کتابوں میں سے ایک ہے جن کے طفیل ہمیں عیسائیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی۔نیز کہا ہم اس امر کو مذہبی آزادی کی جڑوں پر تبر سے کم نہیں سمجھتے کہ ایک پر امن جماعت کے ہاتھوں۔اس کی واجب التعظیم کتاب کو چھین لیا جائے۔ایک سوئس نو احمدی ایم فلو کی گر (M Fluchiger) نے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کے نام ایک پر درد اور پر سوز مکتوب میں لکھا کہ ہم یورپین نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی گرانقدر کتب پڑھ کر ہی اسلام قبول کیا ہے۔ہم آپ کی تحریرات کے ایک ایک لفظ کو مقدس سمجھتے ہیں اور اُن کا لفظ لفظ ہمیں بے حد عزیز ہے۔کتاب کی ضبطی کے اقدام سے ہمیں بے حد دکھ پہنچا ہے اور علی الخصوص میں اپنے آپ کو ایک دُکھی انسان محسوس کرتا ہوں۔29 30