تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 26 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 26

تاریخ احمدیت۔جلد 22 26 سال 1963ء کریں۔مگر خدا حکومت کو سمجھ دے۔ہوا یہ کہ حضرت مرزا صاحب کے لٹریچر کو زیادہ وسیع طور پر پھیلانے اور مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط اور اُن کے قدموں میں استواری پیدا کرنے کی بجائے حکومت نے۔ہاں مسلمان کہلانے والی حکومت نے۔بانی سلسلہ احمدیہ کی اُس کتاب کو جو آج سے چھیاسٹھ سال پہلے لکھی گئی تھی۔اور اسے مسیحی حکومت پچاس سال تک غیر معمولی فراخ دلی کے ساتھ برداشت کرتی چلی آئی تھی ضبط کر لیا تھا۔یہ نا انصافی غالباً دنیا میں اپنی نوعیت کی اوّل درجہ کی نا انصافی ہے کہ کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب کو تو پاکستان بننے سے پہلے ملک کی عیسائی حکومت پچاس سال تک برداشت کرے اور اسے قابلِ اعتراض خیال نہ کرے۔مگر اب چھیاسٹھ سال بعد جبکہ اس کتاب کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں اور دوسری طرف ملک میں مسیحی مشنریوں کا سیلاب آیا ہوا ہے حکومت پاکستان نے اسے بحق سرکا ر ضبط کرنا ضروری خیال کیا ہے۔حالانکہ اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو حقیقی رنگ میں دل آزاریا اشتعال انگیز ہو۔بلکہ جو کچھ لکھا گیا ہے مسیحی معتقدات کی بناء پر لکھا گیا ہے اگر جائز تنقید سے کسی کتاب کو ضبط کیا جا سکتا ہے۔تو پھر انجیل اور تورات کو بھی ضبط کرنا ہوگا جو بہت ہی دل آزار باتوں سے بھری پڑی ہیں۔بلکہ (خاکم بدہن ) بقول دشمنانِ اسلام قرآن پاک کو بھی ضبط کرنا ہو گا جس کے بعض حصوں میں جائز طور پر عیسائیوں اور مشرکوں کے متعلق کافی سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد تو سمجھدار و قدرشناس مسلمانوں نے آپ کی شاندار اسلامی خدمات کو انتہائی قدرشناسی کی نظر سے دیکھا اور آپ کے اسلامی لٹریچر کو سر آنکھوں پر رکھا مگر اب آ کر جبکہ مسیحی مشنریوں نے اسلام کے خلاف تازہ حملے شروع کر رکھے ہیں موجودہ وقت کی مسلمان حکومت حضرت مرزا صاحب کی ایک ایسی کتاب کو ضبط کرتی ہے جو آج سے چھیاسٹھ سال پہلے عیسائی حکومت کے زمانہ میں مسیحیت کے خلاف اور اسلام کی تائید میں لکھی گئی۔العجب ثم العجب !! “ آخر میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے تحریر فرمایا:۔پاکستان کی مسلمان حکومت یعنی صدر صاحب مملکت پاکستان اور گورنر صاحب مغربی پاکستان اور وزراء صاحبان مغربی پاکستان اور ہوم سیکرٹری صاحب مغربی پاکستان خدا کے نام پر اور اسلام کے نام پر اور انصاف کے نام پر اس حوالے کو دیکھیں کہ آج سے پچپن سال پہلے سمجھدار قدرشناس دردمند دل