تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 25 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 25

تاریخ احمدیت۔جلد 22 25 سال 1963ء اور اس طرح دعائیں کریں کہ رب العرش کا عرش ہل جائے اور ہماری دادرسی کے لئے آسمان سے اس کے فرشتے نازل ہوں۔اور وہ آسمان سے زمین پر آئیں اور اُن تمام روکوں کو دور کر دیں۔جو ہمارے مقصد حیات کی راہ میں حائل ہو رہی ہوں۔ہمارا مقصد اور ہمارے وجود کی علت غائی یہی ہے کہ اسلام دنیا میں غالب آئے اور وہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں آ کر آپ کے جھنڈے تلے آ جمع ہوں۔پس دعائیں کریں اور خدا تعالیٰ سے مدد چاہتے ہوئے اپنے اس مقصد کی طرف بڑھتے چلے جائیں۔ربوہ کے اس جلسہ عام کے چند روز بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پاکستان کی مسلمان 166 حکومت کو غیرت دلانے کے لئے ایک پر شوکت مضمون دو اقساط میں سپر دا شاعت فرمایا:۔آپ نے اخبار ” کرزن گزٹ ( دہلی ) اور اخبار وکیل (امرتسر ) کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مسلم کلام کوزبردست خراج تحسین کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:۔مسیحیوں نے اسلام کو کمزور پا کر اور مسلمانوں کو خاموش اور بے بس دیکھ کر اسلام پر اتنے حملے شروع کر دیے تھے کہ جن کی وجہ سے اسلام کی عمارت بظاہر کرتی نظر آتی تھی۔اس لئے مقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور خدائی حکم کے مطابق یہ دعوئی فرمایا تھا کہ اسلام اپنے پر زور لٹریچر اور زبر دست علم کلام اور روحانی نشانات سے صلیب کے زور کو تو ڑ کر رکھ دے گا۔چنانچہ یہی ہوا کہ حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ سے تنگ آ کر عیسائیوں نے ہندوستان میں اپنے بوریئے بسترے باندھنے شروع کر دئیے۔مگر پاکستان بننے کے بعد جہاں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے نواز اوہاں اس ملک میں یہ کمزوری بھی پیدا ہوگئی کہ اُسے مالی مدد کے لئے امریکہ کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا پڑا اور امریکہ نے پاکستان کی حد سے بڑھی ہوئی رواداری اور دوسری طرف مالی تنگی سے ہاتھ اٹھا کر پاکستان میں اتنے عیسائی مشنری بھجوا دیئے کہ گویا اُن کا ایک سیلاب ہو گیا اور کمزور طبیعت کے مسلمان جو اپنے دین سے ناواقف تھے اسلام کو خیر باد کہنے لگے۔ان حالات میں اس بات کی بدرجہ اولیٰ ضرورت تھی کہ مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے پر زورلٹر پچر کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے تاکہ مسیحیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا جا سکے اور کمزور دل مسلمان اس لٹریچر کے ذریعہ سے زیادہ طاقت اور زیادہ سے زیادہ سہارا حاصل