تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 24
تاریخ احمدیت۔جلد 22 24 سال 1963ء جب ایک جماعت اس درجہ پر امن اور امن پسند ہے کہ وہ قانون شکنی کو جرم ہی نہیں بلکہ گناہ خیال کرتی اور اس سے بہر حال مجتنب رہتی ہے تو حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے جو ایسی پُرامن جماعت کا دل دکھانے والا اور اسے قلبی اذیت پہنچانے والا ہو۔کتاب کی ضبطی کا موجودہ حکم ہوسکتا ہے حکومت نے بے خبری میں دیا ہو۔ایسی صورت میں ہر احمدی کے لئے ضروری اور لازمی ہو جاتا ہے کہ وہ حکومت کو احساس دلائے کہ اس کے اس فعل سے احمدیوں کے دل مجروح ہوئے ہیں۔حکومت وقت پر یہ واضح کرنے کے لئے کہ اس قسم کے احکام لاکھوں پر امن شہریوں کو دیکھ پہنچانے والے ہیں۔ہر احمدی مرد، ہر احمدی عورت، ہر احمدی بچے ، ہر احمدی بوڑھے اور ہر احمدی جوان کا یہ فرض ہے کہ وہ حکومت کو بتائے اور یاد دلائے کہ اس کے فلاں حکم سے اسے اور اس جیسے لاکھوں انسانوں کو دکھ پہنچا ہے۔اگر ایسا نہ کیا جائے تو حکومت کہ سکتی ہے اور وہ ایسا کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ اگر تمہیں کسی حکم سے دُکھ پہنچا تھا تو تم اسے حکومت کے نوٹس میں کیوں نہیں لائے۔بہر حال یہ تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کا احترام اور اس کی سختی سے پابندی کرنے والی پُر امن جماعت کے جذبات اور حقوق کا خیال رکھے اور وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جو اس جماعت کے افراد کے لئے دکھ کا موجب ہو اور ان کے دلوں کو مجروح کرنے والا ہو۔دوسری ذمہ داری خود ہم پر عائد ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم یہ امر بھی فراموش نہ ہونے دیں کہ ہم قانون کے احترام کو جزو ایمان سمجھتے ہیں لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ پر امن رہتے ہوئے ہم اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے۔اگر ایسا ہوتا تو خدا تعالیٰ کبھی ہمیں ایسی تعلیم نہ دیتا۔ایسا خیال کرنے میں نعوذ باللہ خدا تعالیٰ پر اعتراض آتا ہے کہ اس نے کیوں ایسی تعلیم دی۔یقیناً ایسے پر امن ذرائع موجود ہیں جن سے ہم اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔اب حقوق حاصل کرنے کے دوذرائع ہیں ایک دنیوی اور دوسرے روحانی۔دنیوی ذریعہ تو جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔یہی ہے کہ ہم اپنا سینہ پھاڑ کر حکومت کے سامنے رکھ دیں اور اسے بتائیں کہ اس نے اپنے فلاں اقدام یا حکم سے کس طرح ہمارا سینہ چھلنی چھلنی کیا ہے اور روحانی ذریعہ یہ ہے کہ ہم خدا کے آگے جھکیں اور اس سے کہیں کہ اے خدا تو خود ہماری داد رسی فرما۔ہمارے افسران حکومت کو اتنی توفیق دے کہ وہ نا انصافی کا طریق چھوڑ کر ہم کو ہمارے حق سے محروم نہ کریں۔یا پھر تو خود ہی کوئی ایسی راہ نکال دے کہ جس سے ہم کو ہمارا حق مل جائے۔پس دعائیں کریں، دعائیں کریں