تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 353
تاریخ احمدیت۔جلد 22 353 سال 1963ء انہیں بھی احمد یہ لٹریچر پیش کیا گیا۔جو وہ مطالعہ کر رہے ہیں۔ان کے علاوہ جن افراد سے ملاقات کی اس میں ہر طبقہ اور ہر مکتب فکر کے افراد شامل ہیں مثلاً یہاں کے گورنمنٹ پریس کے جنرل مینیجر، اساتذہ ، طلبہ، امریکہ، جرمنی وغیرہ سے آئے ہوئے حکومت ٹو گو کے ایڈوائز رز ملٹری آفیسرز وغیرہ کبھی تک پیغام حق پہنچانے کا موقع ملتا رہا۔فالحمد للہ۔برطانوی سفارتخانہ کی لائبریری میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کی انگریزی اور فرانسیسی کتب کا ایک سیٹ جو مختلف قسم کے پچیس نسخہ جات پر مشتمل تھا اور جن میں قرآن کریم بمع انگریزی ترجمہ کی دو کا پیاں شامل تھیں پیش کیا گیا جو برطانوی سفیر نے بڑی خوشی سے قبول کیا۔اس وقت تک کئی ایک احباب ان کتب سے استفادہ کر کے مزید استفسار کے لئے مشن ہاؤس میں آچکے ہیں اور اس طرح انہیں تبلیغ کا موقع ملتا رہا۔اس کے علاوہ یہاں کی قومی لائبریری کے لائبریرین انچارج کو انتیس کتب کا ایک سیٹ جن میں قرآن کریم جمع ترجمہ انگریزی سلسلہ کی انگریزی مطبوعات فرینچ لٹریچر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی کتب شامل تھیں پیش کیا گیا۔جن سے عوام فائدہ اٹھارہے ہیں۔دو پمفلٹ ” قبر مسیح کشمیر میں جو فرانسیسی زبان میں تھے اور اسلام کی برکات جو یہاں کی لوکل زبان ایوے میں تھا نیز ماریشس سے آمدہ لڑ پچرا کا برین تک پہنچایا گیا۔طلبہ اور اساتذہ میں بھی تقسیم کیا گیا۔جن افراد تک یہ لٹریچر پہنچایا گیا ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زائد ہے۔ہاؤ سا مسلم کمیونٹی لومے کی طرف سے ایک جلسہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و محامد کے موضوع پر خطاب کرنے کا موقع ملا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے خطاب بڑا کامیاب رہا۔حاضرین کی کثیر تعداد پانچ سو سے زائد تھی اور لیکچر کا ترجمہ یہاں کی دوزبانوں ہاؤسا اور ایوے میں کیا گیا۔ہاؤ سا میں ترجمانی کے فرائض یہاں کے ایک بڑے پر اثر معلم نے ادا کئے۔میں ( مراد قاضی مبارک احمد صاحب) جب ٹو گو میں داخل ہوا تھا تو حیران تھا کہ اے خدائے عز وجل میں ایک ایسے ملک میں قدم رکھ رہا ہوں جہاں کی نہ میں زبان ہی سے واقف ہوں اور نہ ہی امراء سے اور پھر یہ کہ یہاں ایک فرد بھی تو ایسا نہیں جو جماعت سے منسلک ہونے کا داعی ہو۔بہر حال ایسی ہی گومگو کی حالت میں مجھے یہاں پہلی عید آئی۔یہ عید عید الاضحیہ تھی جو ۱۹۶۲ء کے ابتداء میں مجھے یہاں پڑھنے کا موقعہ ملا۔نہایت پریشان و مضطرب تھا ، حیران تھا اکیلا ہوں نہ کوئی ساتھی ہے نہ کوئی دوست طبعا اس پریشانی نے ایک ایسی حالت پیدا کر دی کہ عید کی نماز کے وقت میں اکیلا ہی بے ساختہ انہی