تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 354 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 354

تاریخ احمدیت۔جلد 22 354 سال 1963ء خیالات میں مستغرق خدا تعالیٰ کے حضور گرا اور نہایت آہ وزاری سے دعا کرنے کی توفیق ملی کہ اے مولا کریم تو بے سہاروں کا سہارا ہے۔تو تنہا و بے یار و مددگاروں کا ساتھی ہے۔تو ہی حامی و حافظ دین متین ہے تیری مدد سے ناکامی کامیابی میں اور تنہائی جماعت میں بدل جاتی ہے تو خود ہی اپنے فضل سے مجھے کامیابی عطا فرما۔میرے ساتھ خود ہی اپنے کرم سے ایک جماعت کر دے۔الحمد للہ خدا تعالیٰ نے اپنے اس عاجز اور حقیر بندے کی زاری کو سُنا اور جہاں میری پہلی عید یعنی عید الاضحیہ تنہائی میں کئی وہاں میری دوسری عید یعنی عید الفطر میں خدا تعالیٰ نے مجھے ایک جماعت بخش دی اور اس طرح میرے اس غم اور افسردگی کو خوشی اور مسرت میں بدل دیا۔فسبحان الله رب العزة۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹو گو میں اس وقت تک باقاعدہ طور پر جماعت میں شامل ہونے والوں کی تعداد بائیس تک پہنچ چکی ہے جس میں سے نصف کے قریب لوگ ہیں جو عیسائیت کو خیر باد کہ کر اسلام کی آغوش میں پناہ لے چکے ہیں۔انہوں نے تثلیث کو الوداع کہہ کر تو حید کو اپنا لیا ہے جو عیسائیوں کے پیش کردہ مسیح کی غلامی سے نکل کر نبی امی فداہ نفسی و روحی و ابی و امی صلی الله علیه وسلم کی غلامی کا جو اپنے میں فخر محسوس کر رہے ہیں الحمد للہ ایک اور امر جو خاص خدا تعالیٰ کے فضل و برکات میں سے ہے وہ یہ ہے کہ یہ وہ پہلا ملک ہے جس میں خدا تعالیٰ نے ایسے افراد میں سے ایک کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی ہے جو پہلے بھی کسی حکومت میں وزارت کا قلمدان سنبھالے ہو اور احمدیت کی قبولیت کے بعد بھی وزارت میں منتخب ہوئے ہوں خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں کی ایک سیاسی پارٹی کے سابقہ لیڈر گذشتہ سے پیوستہ حکومت کے وزیر داخلہ پوسٹ اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز اور موجودہ حکومت کے صدارتی امور کے وزیر مسٹر مما فینسی کو قبول احمدیت کی توفیق ملی ہے۔ایسے ہی موجودہ صدر مملکت کے چھوٹے بھائی پہلے سے ہی احمدیت کی سلک میں منسلک ہو چکے ہیں۔“ (اخبار الفضل نے اپنی ۲۵ مئی ۱۹۶۳ء کی اشاعت کے صفحہ پر مسٹر مما فینسی سے متعلق تعارفی نوٹ زیب اشاعت کیا جس کے مطابق : مسٹرما فینسی ٹو گولینڈ کی سابق حکومت میں وزیرامور داخلہ و پوسٹ اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے ممتاز عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں اور آج کل عبوری صدارتی کا بینہ کے رکن بھی ہیں۔انہوں نے خود بھی ایک خط ارسال کیا ہے جس میں اس امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے انہیں قبول حق کی توفیق عطا فرمائی ہے۔) 49