تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 352 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 352

تاریخ احمدیت۔جلد 22 352 سال 1963ء ٹو گو کی زبان فرانسیسی ہے اور خاکسار جب ٹو گو میں داخل ہوا تو فرانسیسی کے چند الفاظ ہی سے واقف تھا۔اس لئے سب سے قبل ٹو گو میں ان افراد کی طرف توجہ مبذول کی گئی جو انگریزی سے واقف ہوں اور ساتھ ہی فرانسیسی زبان سیکھنے کے لئے بھی انتہائی جد و جہد کی چونکہ انگریزی دان طبقہ بہت ہی کم بلکہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔اس لئے زبان کی مشکل مساعی میں بہت حد تک روک ثابت ہوئی اپنی ٹوٹی پھوٹی فرانسیسی زبان سے یہاں کے اعلیٰ حکام اور تعلیم یافتہ طبقہ تک پہنچنا نہ تو مناسب ہی ہے اور نہ ممکن ہی ہے۔لیکن اس کے باوجود جن اعلیٰ حکام سے مل سکا ان میں یہاں کے صدر مسٹر اولمپیو ، یہاں کی سابقہ حکومت کے وزیر زراعت مسٹر مورد کرا موکو۔وزیر تعلیم کے پرسنل اسسٹنٹ، وزیر امور داخلہ اور ان کے پرسنل اسٹنٹ، وزیر نشریات و اطلاعات کے پرسنل اسسٹنٹ ، قومی اسمبلی کے صدر اور نائب صدر، یہاں کی پولیس کے افسر اعلیٰ شامل ہیں۔ان سب کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا گیا۔اور انہیں فرنچ اور انگریزی لٹریچر پیش کیا گیا۔جو انہوں نے بخوشی قبول کیا اور مطالعہ کا وعدہ کیا۔ٹو گو میں متعینہ برطانوی سفیر سے متعدد مرتبہ ملاقات کی اور ان سے احمدیت کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔گنی اور مالی کے سفراء سے ملاقات کی۔اور انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا۔انہیں فرنچ میں اسلامی کتب بطور تحفہ پیش کی گئیں۔متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیر اور ان کے نائب سے ملا اور ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی ، اتحاد اسلامی اور متعدد دیگر مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔انہیں بھی احمد یہ لٹریچر پیش کیا گیا۔خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کردہ عربی کتب انہیں تحفہ پیش کیں۔جن کا وہ مطالعہ کر رہے ہیں خدا تعالیٰ انہیں قبول حق کی توفیق عطا فرمائے۔آمین موجودہ حکومت چونکہ ابھی نئی نئی قائم ہوئی ہے اس لئے ابھی تک جن افراد سے ملاقات ہو سکی ان میں صدارتی امور کے وزیر، وزیر تجارت وصنعت ، جمہور یہ ٹوگو کے بین الاقوامی مالی امور کے نائب گورنر ، وزیر اطلاعات و نشریات کے پرسنل اسٹنٹ، ادارہ نشریات و اطلاعات کے انچارج، قومی اسمبلی کے نائب صدر اور بعض دوسرے حکام شامل ہیں۔ادارہ یو این کے جو ماہرین گورنمنٹ ٹو گو کی امداد کے لئے یہاں بھیجے گئے ہیں۔ان میں سے مختلف افرادکو ملا۔جن میں امریکن، فرانسیسی ، لبنانی، ہندوستانی، انگریز اور ویت نام کے دوست شامل ہیں۔ان تک پیغام حق پہنچانے کا موقعہ ملا۔ایسے ہی امریکن انفارمیشن سروسز کے ڈائر یکٹر سے ملا