تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 319
تاریخ احمدیت۔جلد 22 319 سال 1963ء بیٹیاں عطا کیں۔آپ کی اہلیہ حفیظ بیگم صاحبہ ۱۹۸۳ء میں فوت ہوئیں۔مولا نا محمد شہزادہ خان صاحب افغان 192 ۲ ستمبر ۱۹۱۰ء کوحضرت خلیفہ المسیح الاول کے دست مبارک پر بیعت کی۔قبول احمدیت سے لے کر آخر وقت تک سلسلہ احمدیہ کی دینی و علمی خدمات بجالاتے رہے۔صاحب کشوف ورؤیا تھے۔صوبہ سرحد اور سرگودھا میں مبلغ و مربی رہے۔اور عرصہ تک مدرسہ احمدیہ اور جامعہ نصرت میں پڑھاتے رہے۔نظام سلسلہ کی پابندی اور اطاعت میں اپنی مثال آپ تھے۔۱۱ را گست ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔میاں عبدالرحیم صاحب بنوں 193 سلسلہ احمدیہ سے پہلے خورم گوجر متصل ٹیکسلا میں امام مسجد تھے اور سلسلہ کے کٹر مخالف تھے۔لیکن قبول احمدیت کے بعد اتنے مخلص ثابت ہوئے کہ امامت خیر باد کہہ دی اور اپنی آبائی اراضی جو سو کنال سے بھی زیادہ تھی کسی کے ہاں رہن رکھ کر قادیان میں سکونت اختیار کر لی۔ہجرت ۱۹۴۷ء کے بعد آپ بھی پاکستان آگئے اور راولپنڈی میں مقیم ہو گئے۔مربی سلسلہ مولوی اسد اللہ کشمیری صاحب مرحوم آپ کے داماد تھے۔۷ا راگست ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔194- مولوی عطاء الرحمن صاحب طالب حضرت ماسٹر مولا بخش صاحب کے فرزند اور مبلغ امریکہ مولوی عبدالقادر صاحب ضیغم کے برادر اکبر تھے۔پنجاب یونیورسٹی کے امتحان مولوی فاضل میں اول پوزیشن حاصل کی۔ابتدا میں کچھ عرصہ تبلیغی میدان میں کام کیا پھر تعلیمی خدمات کے لئے پوری عمر وقف کر دی اور مدرسہ احمدیہ، جامعہ احمدیہ اور جامعہ نصرت میں پروفیسر رہے۔نہایت مخلص، درویش طبع اور فرض شناس وجود تھے۔۲۴ را گست ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔195 السيد عبدالرحمن قزق بن الحاج محمد قزق نہایت مخلص اور پُر جوش داعی الی اللہ تھے خدمت دین کے لئے آپ نے پوری عمر مالی جہاد کیا۔جماعتی اجتماعات آپ کی رہائش گاہ میں ہوا کرتے تھے۔حیفا سے شام ہجرت کر کے آگئے تھے مگر اپنے