تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 320 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 320

تاریخ احمدیت۔جلد 22 320 سال 1963ء خرچ پر بڑے ذوق و شوق سے بغرض تبلیغ فلسطینی بستیوں میں تشریف لے جاتے۔۲ ستمبر ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔100 مولوی غلام نبی صاحب آپ بہاولپور میں وقف جدید کے آنریری مبلغ تھے۔۶ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بغرض تبلیغ سائیکل پر سمہ سٹہ جارہے تھے کہ بس کے حادثہ میں شہید ہو گئے۔197 رائے خان محمد بھٹی صاحب آپ ایک مخلص اور سرگرم احمدی تھے۔آپ پیر مولوی منور دین صاحب آف چک منگلا کی جماعت میں ایک ایسے شخص تھے جنہیں بہت پہلے بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔احمدی ہونے کے بعد تبلیغ میں ہمہ تن مصروف ہو گئے اور اس عہد کو بخوبی ادا کرتے رہے۔آپ کی تبلیغ سے گردو نواح میں کئی جماعتیں قائم ہو گئیں۔آپ کو جماعت احمدیہ کوٹ سلطان ضلع جھنگ کی بطور صدر جماعت خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔مورخه ۱٫۵ اکتوبر ۱۹۶۳ء کو بوقت شام قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے۔اولاد: رائے عبد الحفیظ خاں صاحب 100 خواجہ محمد شفیع صاحب پلیڈر چکوال ۱۹۳۰ء میں خواجہ ظہور الدین صاحب بٹ وکیل گوجر خان کی تبلیغ سے احمدی ہوئے۔آپ ان دنوں اجنالہ ضلع امرتسر کے گورنمنٹ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔خدارسیدہ اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ایک جرم کی سزا زیادہ تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا اس کی سزا بہت تھوڑی ہوگی چنانچہ مجسٹریٹ صاحب نے اتنی ہی سزادی جتنی آپ کو قبل از وقت بتائی گئی تھی۔خواجہ صاحب فوراً عدالت میں ہی سجدہ میں پڑ گئے اور مجسٹریٹ کے دریافت کرنے پر بتایا خدا تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔اس لئے سجدہ شکر کیا۔سبحان اللہ کیسے کیسے خدا والے احمدیت نے پیدا کئے۔۱۷ اکتوبر۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔مولوی برکات احمد صاحب را جیکی 199- حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے صاحبزادہ تھے۔۱۹۴۴ء میں خدمت دین کے لئے