تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 318
تاریخ احمدیت۔جلد 22 محترمه عمده بیگم صاحبه وفات: آغاز جولائی ۱۹۶۳ء 318 سال 1963ء محترمہ عمدہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلا الیه نوے سال کی عمر میں لاہور میں وفات پاگئیں۔آپ حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ کی والدہ محترمہ تھیں۔آپ اپنے بیٹے مکرم کرنل ڈاکٹر خلیفہ تقی الدین احمد صاحب کے پاس لاہور میں مقیم تھیں۔آپ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی پہلی بیوی تھیں۔آپ کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے دو بیٹیوں اور دو بیٹوں سے نوازا تھا۔مرزا عبدالغنی صاحب مکرم مرزا عبدالغنی صاحب ۱۸۹۰ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔آپ مکرم مرزا فرزند علی صاحب متولی مسجد وزیر خان لاہور کے صاحبزادے تھے۔آپ کا لونیکل سروس میں بھرتی ہوئے۔ہندوستان میں ابتدائی ٹریننگ کے بعد نیروبی ( کینیا) میں فارینسک ڈیپارٹمنٹ میں آپ کا تقرر ہوا۔آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔کئی زبانوں میں مثلاً فارسی، عربی، اردو اور انگریزی میں مہارت رکھتے تھے۔دوران ملا زمت برٹش سول سروس میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔کرکٹ کے اچھے کھلاڑی تھے۔اکثر مواقع پر نیروبی الیون کی نمائندگی کی۔۱۹۳۱ء میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے آپ کے خاندان والوں نے آپ سے قطع تعلق کر لیا اور جائیداد سے بھی محروم کر دیا۔۱۹۳۳ء میں آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ قادیان آگئے اور محلہ دارالبرکات میں ایک عالی شان مکان تعمیر کرایا۔(۲۰ جنوری ۱۹۳۵ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس مکان کا سنگ بنیا درکھا تھا۔01 آپ محاسب خزانہ صدرانجمن احمد یہ ر ہے۔۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کے وقت حضرت خلیلی امسیح الثانی کی ہدایت پر انجمن کا خزانہ قادیان سے ربوہ لیکر آئے۔اور لاہور آ کر جماعت کے اکاؤنٹ میں ی خزانہ جو تقریباً تین لاکھ روپے تھا جمع کرا دیا۔۱۹۵۱ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی اجازت سے نیروبی کینیا چلے گئے۔جہاں آپ کے دو بیٹے رہتے تھے۔وہیں جولائی ۱۹۶۳ ء میں آپ کی وفات ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بیٹے اور تین