تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 317
تاریخ احمدیت۔جلد 22 317 سال 1963ء سکول کے زمانے میں میرے شاگرد بھی رہے تھے اور سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا کے بڑے بھائی تھے۔“ 184 حضرت مصلح موعود ۱۹۵۶ء میں جب ایبٹ آباد تشریف لے گئے تو آپ کے مکان میں فروکش ہوئے ضلع مانسہرہ کے امیر تھے۔۵ اپریل ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔نواب سید عبد المومن صاحب رضوی حیدر آبادی آپ کے والد بزرگوار حضرت نواب مولوی سید محمد صاحب رضوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۳۱۳ صحابہ کبار میں شامل تھے جن کی نظام حیدر آباد (دکن) کی پھوپھی زاد بہن سے شادی ہوئی تھی۔مرحوم اشاعت احمدیت میں خاص شغف رکھتے تھے۔۲۸ مئی ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔محترمه عنایت بیگم صاحبہ بنت مرزا احمد بیگ اہلیہ مرزا ارشد بیگ قادیان 186 مرحومه محترمه محمدی بیگم صاحبہ (اہلیہ مرزا سلطان محمد صاحب) کی چھوٹی بہن تھی۔۳۰ مئی ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔ان کا جنازہ حکیم عبد اللطیف صاحب شاہد گوالمنڈی لاہور نے پڑھایا اور میانی صاحب کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔187 میاں نیم حسین صاحب ابن سر فضل حسین صاحب آپ ایک نہایت درجہ مخلص اور فدائی احمدی تھے۔مختلف ممالک میں سفیر پاکستان کے طور پر اپنے ملک کی نہایت قابلِ قدر خدمات بجالاتے رہے۔سفارتی مصروفیات کے باوجود آپ کا دینی شغف اور اخلاص و قربانی کا جذبہ قابلِ رشک تھا آپ نے حج کا شرف بھی حاصل کیا اور حرمین شریفین کی دومرتبہ زیارت کی ۴ جون ۱۹۶۳ء کو بیروت میں وفات پائی۔الاستاذ احمد حلمی 188 مصر کے ابتدائی احمدیوں سے تھے۔۱۹۳۸ء میں قادیان کی زیارت کی اور مرکز احمدیت کی برکات سے مالا مال ہو کر اپنے وطن لوٹے۔جولائی ۱۹۶۳ء میں وفات پائی۔189