تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 307
تاریخ احمدیت۔جلد 22 307 سال 1963ء ۱۹۴۴ء میں حضرت مصلح موعود نے ہوشیار پور میں حضرت مسیح موعود کی چلہ کشی کے کمرہ میں جن خوش نصیب ۳۴ ا حباب کے ساتھ اجتماعی دعا کرائی ان میں آپ بھی شامل تھے۔10 ۱۹۴۵ء میں جناب نواب عادل خان صاحب رئیس شہر کی درخواست پر حضرت مصلح موعود نے آپ کو سہارنپور بھجوایا۔یہاں آپ کے علماء سے کئی معر کے ہوئے۔ایک عالم جناب ہلالی صاحب نے آپ کو مناظرے کا چیلنج دیا۔آپ نے بذریعہ اشتہار عربی اور اردو دونوں طرح کے تحریری اور تقریری مناظرہ کرنے کا اعلان عام کر دیا مگر ہلالی صاحب نے چپ سادھ لی اور مرد میدان بن کر مقابل پر آنے کی جرات نہ کر سکے۔10 مارچ ۱۹۴۶ء میں آپ دار التبلیغ پشاور میں متعین کئے گئے۔۱۹۴۹ء میں آپ ملازمت سے سبکدوش ہو گئے بایں ہمہ آپ نے تبلیغ و تربیت، درس قرآن اور تبلیغی و علمی خطوط و مضامین کا سلسلہ زور شور سے جاری رکھا۔قیام پشاور کے دوران آپ نے ۱۲ ،۱۳ جولائی ۱۹۴۶ء کی درمیانی شب کو رویا دیکھا۔جس پر آپ نے "المقالات القدسیہ فی الافاضات الاحمدیہ کے عنوان سے اپنی زندگی کے ایمان افروز واقعات اور تجربات و مشاہدات ضخیم جلدوں میں مرتب فرمائے۔جو آپ کی پوری زندگی کے گویا نچوڑ تھے۔یہ غیر مطبوعہ علمی خزانہ خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔اور کتاب حیات قدسی کے پانچ مطبوعہ حصے ان کا نہایت مختصر خلاصہ ہیں۔161 فروری ۱۹۵۷ء۔سید نا حضرت مصلح موعود نے آپ کو باوجود پیرانہ سالی اور ضعف کے صدر انجمن 162 احمدیہ پاکستان کا ممبر نامزد فرمایا۔خلاصہ یہ کہ مولا نا صاحب کی پوری زندگی علمی و دینی خدمات سے لبریز تھی۔آپ کی مساعی سے ہزاروں لوگ احمدی ہوئے۔آپ کے شاگردوں کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔خلافت ثانیہ کے بہت سے علماء کو آپ کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔جن دنوں آپ لاہور میں قیام رکھتے تھے حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے آپ سے فوز الکبیر، حجۃ اللہ البالغہ اور تفسیر بیضاوی پڑھی۔آپ کی قبولیت دعا اور قبل از وقت آسمانی بشارات پر مشتمل واقعات سے آپ کی خودنویس سوانح بھری پڑی ہے۔حضرت چوہدری محمد حسین صاحب ( والد ماجد ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نوبل انعام یافتہ ) تحریر فرماتے ہیں:۔