تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 306 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 306

تاریخ احمدیت۔جلد 22 306 156 سال 1963ء صرف آپ کی تقریر تھی جوسب سے پہلے رکھی گئی۔جب آپ اپنی نشست گاہ سے اٹھ کر سٹیج کی طرف بڑھے تو آپ کے سادہ لباس کو دیکھ کر منتظمین اور حاضرین جلسہ بہت مشوش ہوئے۔لیکن جب آپ نے کرشن جی کی سوانح حیات کے ظاہری مگر قابلِ اعتراض حصہ کی حقیقت علم و معرفت کے رنگ میں نمایاں کر کے ان کی پیغا مبرا نہ شان اور عظمت نمایاں کی تو حاضرین نے جوش محبت و عقیدت میں بار بار چیئر ز دیئے اور مسرت کا اظہار کیا۔اور وہ لوگ جو آپ کو سادہ وضع اور لباس دیکھ کر سخت متفکر تھے آپ کی کامیاب تقریر سے ورطہ حیرت میں پڑ گئے۔۱۹۴۲ء میں حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر ایک اہم کام کی سرانجام دہی کے لئے آپ مہاشہ محمد عمر صاحب، مولانا محمد سلیم صاحب اور گیانی عباد اللہ صاحب کیرنگ (اڑیسہ ) کے ساتھ تشریف لے گئے۔آپ امیر وفد تھے۔اس سفر میں اڑیسہ کے احمدیوں کو آپ سے بے حد عقیدت ہوگئی۔بیسیوں خدام ہر وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔صدر انجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ بابت ۱۹۴۳-۱۹۴۲، صفحہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مئی ۱۹۴۲ تا اگست ۱۹۴۲ء میں یوپی، بنگال، بہار اور اڑیسہ کے مندرجہ ذیل مقامات کا خصوصی دورہ کیا۔کلکتہ، کھڑک پور، ٹاٹانگر ، بھاگلپور، سونگھڑ ، رائے پور، بھدرک، کٹک، خوردہ ، پوری ، کیرنگ۔۱۹۴۳ء میں آپ آپ محرقہ سے سخت بیمار ہوئے یہاں تک کہ ایک دن آپ کی وفات کی افواہ بھی قادیان میں پھیل گئی۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب سیدنا حضرت مصلح موعود کے حضور ڈلہوزی پہنچے اور آپ کے لئے درخواست دعا کی۔حضور نے فرمایا ہم سب مولوی صاحب کی صحت کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔چنانچہ آپ رو بصحت ہونے لگے۔حضور ڈلہوزی سے قادیان تشریف لائے تو ایک قیمتی چونه صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب کے ہاتھ آپ کو بھجوایا۔جس کو آپ نے زیب تن کیا اور اس کی برکت سے اپنی صحت میں نمایاں ترقی محسوس کی۔بیماری کے بعد حضرت مصلح موعود نے ۱۰ستمبر کو حسب ذیل خط آپ کے نام ارسال فرمایا۔د مگر می مولوی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط مورخہ ۷ ماہ تبوک ۱۳۲۲ ہش ملا۔اس عمر میں اس بیماری سے شفا واقعی فضل الہی کا ایک نمونہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس نئی زندگی کو پہلی سے بھی زیادہ مبارک کرے۔والسلام خاکسار مرز امحمود احمد۔