تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 308
تاریخ احمدیت۔جلد 22 308 سال 1963ء ۲۹۔۱۹۲۸ء میں ایک دفعہ جھنگ میں دورہ پر تشریف لے گئے اور غریب خانہ پر قیام فرمایا۔عزیز عبد السلام سلمہ اس وقت ننھا بچہ تھا بھاگ دوڑ لیتا تھا لیکن بولتا نہ تھا اس کی والدہ نے مولوی صاحب سے درخواست کی کہ یہ بچہ بولتا نہیں تو آپ نے نہایت محبت سے اسے بلایا لیکن وہ نہ بولا پھر کوشش کی لیکن ناکامی رہی۔آخر آپ نے دعا کی اور فرمایا’ ایسا بولے گا کہ دنیا سنے گی“۔۱۹۶۲ء میں ریڈیو پر ایٹم برائے امن پر پروفیسر عبدالسلام لندن نے برجستہ تقریر کی جو دنیا بھر میں سنی گئی اور سائنس دانوں نے اسے سراہا۔بعض متبرک خطوط حضرت مولا نا راجیکی صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت اقدس میح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفہ مسیح الاول اور حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کے متبرک خطوط میں سے کئی ایک غیر معمولی حوادث کی نذر ہو گئے۔جو میرے پاس محفوظ ہیں ان میں سے چند ایک ذیل میں درج کرتا ہوں:۔(1) خط املا حضرت خدینہ امسیح الاول جو حضرت نے مجھے حد یہ بلڈنگکس لاہور کے پتہ پر ارسال فرمایا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔میں آپ پر بالکل خوش ہوں۔والسلام پتہ : بخدمت شریف مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نورالدین ۴ ستمبر ۱۹۱۲ء احمد یہ بلڈنگس۔ڈاک خانہ نولکھا۔لاہور نوٹ: یہ خط حضور نے مجھے اس وقت تحریر فرمایا جب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے خلاف حضرت کے حضور شکایت لے کر گئے کہ میں اپنے خطبات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ کے اظہار میں غلو کرتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول نے ان کو یہ جواب دیا کہ جو درجہ حضرت صاحب کا مولوی را جیکی سمجھتے ہیں میں ان سے زیادہ سمجھتا ہوں اور میرے خط کے جواب میں یہ مندرجہ بالا ) مکتوب بطور خوشنودی کے رقم فرمایا۔