تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 305
تاریخ احمدیت۔جلد 22 305 سال 1963ء 153 تقریب پر آپ کی شاہی طبیب اور وزیر اعظم سے بعض قرآنی آیات کے متعلق گفتگو ہوئی جو نہایت درجہ ایمان افروز تھی۔کوئٹہ ( بلوچستان) کے مشہور زلزلہ (۳۱ مئی ۱۹۳۵ء) کے بعد آپ کو تبلیغی اغراض کے ماتحت کوئٹہ بھجوایا گیا۔جہاں آپ کچھ عرصے تک اسلام کی منادی میں سرگرم عمل رہے۔اہلحدیث عالم مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی کے ساتھ آپ کے بار ہا مناظرے ہوئے جس میں ان کولا جواب ہونا پڑا۔ستمبر ۱۹۳۸ء میں جبکہ حضرت مولانا صاحب سیالکوٹ میں مقیم تھے۔موصوف نے محلہ اراضی یعقوب کے ایک جلسہ میں آپ کو مقابلہ کا چیلنج دیا اور کہا کہ مرزا صاحب اور مرزائی قرآن کی عبارت صحیح نہیں پڑھ سکتے۔ان کے اس ادعا کے باطل ثابت کرنے کے لئے آپ نے نعم الرقیم فی جواب دعوۃ ابراہیم کے عنوان سے ایک ٹریکٹ شائع کیا جس میں بیاسی اشعار کا قصیدہ بھی شامل کیا اور لکھا کہ:۔وو یہ عربی قصیدہ ان کے اس قول اور دعوت مناظرہ کا جواب ہے۔اگر میرے اس قصیدہ کے جواب میں مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کا قلم ٹوٹ جائے ، ان کی دوات پھوٹ جائے اور ان کا کاغذ پھٹ جائے یعنی ہر طرح سے عربی قصیدہ کا جواب لکھنے سے عاجز ثابت ہوں تو ہم اور تو کچھ نہیں کہتے صرف اتنا بہ ادب عرض کرتے ہیں کہ وہ آئندہ احمدی افراد کے متعلق اور نیز ہمارے سید ومولی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق غلط بیانی کرنے اور لاف زنی سے پر ہیز کیا کریں کہ انسانی شرافت اور وقار اسی میں ہے۔یہ ٹریکٹ سیکرٹری احمد یہ ینگ فوک ایسوسی ایشن نے شائع کیا جو بعد میں اخبار ” فاروق ( قادیان) میں بھی چھپ گیا۔مولوی محمد ابراہیم صاحب پر اس قصیدہ کا ایسا رعب چھایا کہ وہ اس کے جواب میں ایک شعر نہ لکھ سکے اور پبلک میں سلسلہ احمدیہ کی حقانیت اور علمی قوت کا خوب چرچا ہوا۔۱۹۴۱ء میں آپ مع مولوی محمد الدین صاحب مبلغ البانیہ تبلیغ کی غرض سے علاقہ کشمیر میں تشریف لے گئے۔اور بہت سے تبلیغی جلسوں میں شمولیت اور تربیتی اور اصلاحی امور کی سرانجام دہی کا موقعہ ملا۔155 اس دور کا ایک خاص واقعہ یہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں نے سرینگر میں سری کرشن جی مہاراج کے متعلق ایک جلسہ کیا۔اور دوسرے مذاہب کے علماء کو بھی تقریر کی دعوت دی۔مسلمانوں کی طرف سے