تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 272 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 272

تاریخ احمدیت۔جلد 22 272 سال 1963ء عبدالکریم صاحب نے بھی اپنے احمدی ہونے کا اعلان کر دیا۔آپ نے دستی بیعت ۱۹۰۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر جہلم کے دوران کی۔قبول احمدیت کے دوران آپ پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے۔کھیتوں کو تباہ کیا۔آپ کی صاحبزادی کی قبر کو اکھیڑ کر لاش کو باہر پھینک دیا گیا۔لیکن آپ نے کبھی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔آپ نماز تہجد کے عادی تھے۔اور شاید ہی زندگی میں کبھی نماز تہجد ادا نہ کر سکے ہوں۔دیہاتی ماحول میں جب زمین دارا اپنے مال مویشی اپنی زمینوں اور ڈیروں پر لے کر جاتے ہیں تو اکثر اوقات جانور آتے جاتے ہوئے راستہ میں قریب ملحقہ کھیتوں میں گھس کر لوگوں کی فصلوں کا نقصان کر دیتے ہیں۔میاں صاحب اتنے محتاط تھے کہ جب اپنے جانور باہر زمینوں پر لے کر جایا کرتے تھے تو اس وقت اپنے سب چھوٹے بڑے جانوروں کے مونہہ باندھ لیا کرتے تھے تا کہ آپ کے جانور کسی کے کھیت میں مونہہ نہ ماریں اور کسی کا نقصان نہ ہو۔اس لئے لوگ آپ کی ایمانداری کی مثال دیا کرتے تھے۔حضرت سید محمود احمد شاہ صاحب کی زندگی میں ان کے ہاں روایتی طور پر تعلیم القرآن کا سلسلہ فیض جاری تھا۔ان کی وفات کے بعد یہ درس مکرم میاں صاحب کے ہاں منتقل ہو گیا اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ تعلیم القرآن کا مبارک سلسلہ تقریباً ایک صدی تک حضرت میاں صاحب اور پھر ان کی وفات کے بعد ان کی بہو محترمہ عنایت بیگم صاحبہ ( گاؤں کے خورد و کلاں آپ کو احترام سے بہن جی کہتے تھے ) کی نگرانی میں چلتا رہا۔گاؤں کے بیشتر بچے اور بچیوں نے بلا تفریق مذہب و عقائد قرآن پاک اور بنیادی دینی تعلیم اسی درس میں حاصل کی۔بلا مبالغہ ہزاروں لوگوں نے بالواسطہ یا بلا واسطہ اس مکتب علم و عرفان سے اکتساب کیا۔ساری عمر جب تک آپ کی صحت نے اجازت دی، اپنی جماعت میں امامت کے فرائض ادا کرتے رہے۔آپ نے عرصہ دراز تک جماعت احمدیہ فتح پور ( اس دور میں سات آٹھ قریبی دیہاتوں کے احمدی بھائیوں کی ایک ہی جماعت ہوتی تھی) سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی سعادت حاصل کی۔چونکہ آپ کا شغل کاشت کاری تھا۔اس لئے کوئی نہ کوئی چھوٹا موٹا جانور سواری اور بار برداری کے لئے گھر پر رہتا تھا۔اس لئے آپ اپنی سواری پر ہر قریبی گاؤں میں جا کر احمدی بہن بھائیوں سے چندہ جنس کی صورت میں لے کر آتے تھے۔