تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 271 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 271

تاریخ احمدیت۔جلد 22 271 سال 1963ء ہے۔چنانچہ تھوڑی دیر میں آرام آگیا۔اور بھی بہت سی قبولیت دعا کی شہادتیں آپ سے مروی ہیں۔حضرت مہتاب بیگم صاحبہ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم پسر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو ایک ماہ دودھ پلانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔آپ خدا کے فضل سے موصیبہ تھیں۔جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مسجد برلن کی تحریک فرمائی تو آپ نے ۳۰ روپے چندہ ادا کیا۔آپ حضرت سید سرور شاہ صاحب کے آرام کا بہت خیال رکھتیں۔جب گھر میں ہوتے تو کبھی ادھر ادھر نہ جاتیں نہ ان کے مطالعہ میں بچوں کو جانے دیتیں۔گھر کے اکثر اخراجات کا حسن تدبر سے انتظام کرتیں اور گھر کے نظم وضبط کی کڑی نگرانی رکھتیں۔آپ کے نواسے لکھتے ہیں کہ گھر کے متعلق ہر کام سلیقے سے کرتیں گھر کے افراد کے علاوہ دو چار کشمیری طلباء بچے بچیاں اور ملازموں کی دیکھ بھال بڑے ذوق اور ڈھنگ سے کرتیں۔سلسلہ کے لڑ پچر کے علاوہ حضرت قاضی اکمل صاحب کے گھر آنے والے تمام رسائل کا مطالعہ کرتیں۔آخری عمر تک باپردہ گھر سے جاتیں۔بے حد دعا گو اور ملنسار خاتون تھیں۔حضرت سید سرور شاہ صاحب کی اہلیہ اول سے بیٹی فاطمہ بیگم تھیں۔ان کی شادی کے وقت بڑی فراخ دلی سے ان کا جہیز تیار کیا۔ان کی اپنی حقیقی بیٹیوں کی طرح پرورش کی۔109- اولاد: حضرت مہتاب بیگم صاحبہ کے بطن سے حسب ذیل اولا د ہوئی۔(۱) سید ناصر احمد شاہ صاحب مرحوم (۲) سید مبارک احمد صاحب سرور (۳) سیده ناصرہ بیگم صاحبه حضرت میاں عبد الکریم صاحب آف فتح پور ضلع گجرات ولادت ۱۸۸۰ء یا ۱۸۸۱ء بیعت : ۱۸۹۶ء وفات : ۲۵ ستمبر ۱۹۶۳ء روز نامه الفضل ربوه مورخه ۲۱ جون ۲۰۱۲ صفحه ۵، ۶ پر آپ کے حالات و واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے جس کا ملخص ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔حضرت میاں عبدالکریم صاحب ابن علی احمد صاحب ۱۸۸۰ء میں فتح پور ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں ہی حاصل کی۔آپ کے ہمسائے میں ایک بزرگ شخص حضرت سید محمداحمد شاہ صاحب رہا کرتے تھے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا سن کر قادیان تشریف لے گئے۔وہاں جا کر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔واپس گاؤں آکر آپ نے حضرت صاحب کی تعلیمات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔جس کے نتیجے میں حضرت میاں