تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 273
تاریخ احمدیت۔جلد 22 273 سال 1963ء حضرت مرز اعطاء اللہ صاحب آف لاہور ولادت ۲۱ / اپریل ۱۸۸۸ ء بیعت: قریباً ۱۹۰۱ء وفات: ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۳ء پنجابی کے مشہور شاعر حضرت بابا مرزا ہدایت اللہ صاحب کے صاحبزادے تھے والد کی وفات کے بعد بعض شر پسند عناصر نے آپ کے مکان کے ساتھ متصل مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔پانچ سال تک مقدمہ چلتا رہا۔دشمن نے آپ کے بڑے بھائی مرزا قدرت اللہ صاحب کے قتل کی سازش بھی کی مگر نا کام رہا۔اس طویل مقدمے کا زیادہ تر مالی بوجھ آپ نے ہی اٹھایا۔عدالت نے فیصلہ کیا کہ ہر فریق نماز پڑھنے کا حق دار ہے۔اس پر احمدی محض اللہ مسجد سے ہمیشہ کے لئے دستبردار ہو گئے۔بڑے صائب الرائے اور ہمدرد انسان تھے عزیز واقارب کی خبر گیری کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔محکمہ تعلیم میں جہاں آپ نے ۳۵ سال سے بھی زیادہ عرصہ ملازمت کی۔آپ کو مسلمانوں کی خدمت بجا لانے کے بہت سے مواقع میسر آئے۔اولاد مرزا عزیز احمد صاحب، صالحہ منہاس صاحبہ، ناصرہ بیگم صاحبه، رشید بیگم صاحبہ، مرزا خلیل احمد صاحب، مرزا ناصر احمد صاحب، مرز اسعید اللہ بیگ صاحب - 10 حضرت مرزا حاکم بیگ صاحب موجد تریاق چشم گجرات ولادت ۱۸۷۳ء (اندازاً) بیعت : ۱۸۹۸ء وفات : ۱۱ نومبر ۱۹۶۳ء آپ کا اصل وطن جلال پور جٹاں ضلع گجرات تھا اور آپ اس قصبہ کی جماعت احمدیہ کے روح رواں تھے۔احباب جماعت آپ ہی کے گھر میں جمعہ ادا کرتے تھے۔چندہ خودا کٹھا کرتے اور جلسہ سالانہ پر جانے کے لئے دوستوں کو شوق دلاتے تھے۔آپ شروع سے ہی بے دھڑک اور نڈر راحمدی تھے اور سلسلہ احمدیہ کا پیغام پہنچانے میں دیوانہ وار مصروف رہتے تھے اور غیر احمدی دوستوں کے علاوہ ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں سے اکثر تبادلہ خیالات جاری رکھتے تھے۔جلال پور جٹاں میں آپ نے ایک تبلیغی جلسہ بھی کرایا جس میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ، حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی اور حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ کے لیکچر ہوئے اور احمدیت کی نمایاں فتح اور دُور دُور تک شہرت ہوئی۔مطالعہ کتب کا فطری ذوق و شوق رکھتے تھے جو نئی کتاب مرکز سے شائع ہوتی منگوا لیتے۔سلسلہ