تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 244 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 244

تاریخ احمدیت۔جلد 22 244 سال 1963ء سلسلہ کے لٹریچر پر خاصا عبور تھا۔اس لئے تبلیغی مسائل میں دوسروں پر احمدیت کی دھاک بٹھا دیتے۔فارسی اور عربی میں بھی دسترس حاصل تھی۔الفضل کے اہم مضامین ، خطبات امام اور مرکزی تحریکات غیر احمدی معززین کی مجالس میں سنانے کا اہتمام فرماتے۔بعض تعلیم یافتہ غیر مسلموں نے آپ سے گور مکھی اور ہندی لٹریچر کا مطالعہ کیا اور انہیں مرکز اور سلسلہ احمدیہ سے گہرا لگاؤ پیدا ہو گیا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فدائی و شیدائی تھے اور ہمیشہ خلافت کے دامن کے ساتھ والہانہ شان کے ساتھ وابستہ رہے۔حضرت مصلح موعود کی ذات مقدس سے غیر معمولی عقیدت تھی چنانچہ ۳ / جون ۱۹۳۰ء کو جب لاہور کے اخبار ٹریبیون میں حضور کی جھوٹی خبر چھپی تو آپ ضبط نہ کر سکے اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور یہ کہتے ہوئے تو آپ کی بچکی بندھ گئی کہ خدایا ہم نے پوری طرح قرآن نہ سیکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔پھر ہم نے تیرے پہلے خلیفہ سے کچھ کلام پاک کی معرفت حاصل کی اور حضرت خلیفہ ثانی کے مبارک وجود نے پھر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پُر انوار زمانے کی بہار دکھانا شروع کی تھی۔ابھی بہت تفسیر باقی ہے کروڑوں لوگ تو اس خزانے سے محروم اور ترستے ہوئے دنیا سے گزر چکے ہیں الغرض آپ ماہی بے آب کی طرح ایسے بے قرار ہوئے کہ آپ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اور جب تک اس غلط خبر کی تردید نہیں پہنچی آپ کو چین نہیں آیا۔دینی مطالعہ آپ کی زندگی کے مستقل مشاغل میں شامل تھا اور آپ کی روحانی غذا کی حیثیت رکھتا تھا۔ذوق مطالعہ کی تسکین کے لئے باقاعدہ بجٹ بناتے تنخواہ سے پس انداز کرتے رہتے اور جب مرکز جانے کا اتفاق ہوتا سلسلہ کا نیا لٹریچر ضر ور خرید کر لاتے۔قلیل آمد میں بھی سلسلہ کے تمام اخبارات کے با قاعدہ خریدار تھے جوانی میں وصیت کی توفیق پائی اور جائیداد کے پانچویں حصہ کی وصیت کر کے اسے بہت اخلاص سے نبھایا۔آپ کی وفات کے بعد خاندان کو علم ہوا کہ آپ کی وصیت پانچویں حصہ کی تھی لیکن پائی پائی اپنی زندگی میں بے باق کیا ہوا تھا۔وصیت کے علاوہ تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں میں بھی حسب توفیق حصہ لیتے رہتے تھے۔خاندان میں بہت ہر دلعزیز تھے۔مزاج صوفیا نہ تھا۔ضرورت سے زیادہ گفتگو نہ فرماتے۔بزرگان سلسلہ اور واجب الاحترام ہستیوں کی از حد تعظیم کرتے اور ان کی خدمت میں عجز وانکسار سے حاضر ہوتے تھے۔