تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 245 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 245

تاریخ احمدیت۔جلد 22 245 سال 1963ء خوش نویسی انہیں اپنے والد مکرم کے ورھ میں ملی تھی۔تحریر ایسی تھی جیسے موتی پروئے ہوئے ہوں۔خط و کتابت میں بہت با قاعدہ تھے اور نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت بابرکت میں با قاعدہ خطوط لکھو۔اُن کی نگاہ میں مبلغین احمدیت اور واقفین کی بہت قدرومنزلت تھی اور ان کی ملاقات سے قلبی اور روحانی لذت محسوس کرتے۔تبلیغی واقعات بہت دلچسپی سے سنتے اور علمی نکات و معارف سے بہت محظوظ ہوتے تھے۔جسمانی صحت وصفائی کا خاص خیال رکھتے تھے۔لباس ہمیشہ صاف ستھرا سادہ اور اسلامی وضع کا زیب تن فرماتے۔بلاناغہ سیر اور روزانہ غسل آپ کا معمول رہا۔اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں آپ نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور اپنے نمونہ سے انہیں بچے اور فدائی احمدی کی طرح لیل و نہار گزارنے کا خوگر بنایا۔بریکاری سے آپ کو سخت نفرت تھی۔ہمیشہ خدمت خلق میں مصروف رہتے۔نقد امداد کے علاوہ ادو یہ بھی مفت دیتے تھے۔غیر احمدی رشتہ داروں نے آپ کو فرشتہ سیرت کا خطاب دے رکھا تھا۔متوکل بزرگ تھے۔آپ نے بہت ہی سادگی سے اپنی عمر گذاری۔تکلف سے کوسوں دور تھے۔زبان پر کبھی حرف شکایت نہیں آنے دیا۔نہ کبھی کسی خواہش کا اظہار فرمایا۔خدا تعالیٰ کی جناب سے جو کچھ میسر آیا اس پر قانع اور خوش رہے۔آپ اپنے کاموں میں بہت با قاعدہ تھے اور پابندی وقت کا خوب خیال رکھتے تھے۔اپنے مسلمان اور غیر مسلم غرضیکہ ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے دوستوں کا بے حد احترام کرتے تھے۔لین دین کے معاملات میں نہایت صاف تھے۔حق سے زیادہ دینا آپ کو بہت پسند تھا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو کبھی مقروض نہیں ہونے دیا اور نہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت محسوس کی۔صاف گوئی میں اُن کا کوئی جواب نہ تھا۔کبھی لگی لپٹی نہ رکھتے۔ہر بات صاف صاف کہہ دیتے تھے۔خدمت دین کو نعمت غیر مترقبہ سمجھتے تھے اور اس وجہ سے اپنے بیٹے مولوی حکیم محمد الدین صاحب مبلغ سلسلہ سے انہیں بہت محبت تھی۔مولانا صاحب تقریباً ۲۳/۲۲ سال کی طویل مدت تک آپ سے ہزاروں میل دور بھارت میں رہے۔(حتی کہ وفات کے وقت وہ آپ کا چہرہ بھی نہ دیکھ سکے۔) لیکن آپ نے کمال صبر سے یہ جدائی برداشت کی اور انہیں عمر بھر غم مفارقت کا احساس تک نہ ہونے دیا۔مبادا خدمت دین میں کوئی کمزوری واقعہ ہو۔باوجود شدید علالت اور ضعف کے ۱۹۶۲ء کے جلسہ سالانہ ربوہ میں شامل ہوئے اور ربوہ میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔