تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 243
تاریخ احمدیت۔جلد 22 243 سال 1963ء ( حضرت منشی صاحب نے اپنی روایات میں لکھا ہے کہ اُن کے بھائیوں نے ۱۸۸۹ء میں بیعت کی تھی ، یہ سہو معلوم ہوتا ہے۔بیعت اولیٰ کی تاریخی فہرست میں جو مارچ ۱۸۸۹ء سے ۲۸ / اکتوبر ۱۸۹۲ء تک کے زمانہ پر مشتمل ہے۔ان کا نام موجود نہیں ہے۔) اولاد: رشید احمد خان صاحب باٹا پور لاہور ، چوہدری عزیز احمد خان صاحب (متوفی 4761907 آپ کے ایک پوتے مکرم ظہیر احمد خان صاحب مربی سلسلہ اس وقت انگلستان میں خدمات دینیہ بجالا رہے ہیں اور آپ کے ایک پڑپوتے مکرم احسان احمد خان صاحب ابن مکرم وسیم احمد خان صاحب ۲۸ مئی ۲۰۱۰ ء کے سانحہ لاہور میں شہید ہوئے۔حضرت مولوی محمد عزیز الدین صاحب ولا دت ۲۲ / جون ۱۸۸۸ء۔بیعت : ۱۹۰۱ء 49۔وفات: ۳۱ / جنوری ۱۹۶۳ء 50۔مکیریاں ضلع ہوشیار پور کے ایک جید عالم دین حضرت مولوی وزیر الدین صاحب تھے (۳۱۳ صحابہ کبار میں آپ کا نام نمبر ۱۴ پر درج ہے جو براہین احمدیہ کی اشاعت پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کا اشتیاق لئے پا پیادہ مکیریاں سے قادیان حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کی درخواست کی لیکن حضور نے ارشاد فرمایا۔میں مامور نہیں ہوں تا ہم آپ اس یقین سے لبریز رہے کہ آپ ہی امام مہدی ہیں اور پھر مع اہل و عیال حضور کی خدمت میں حاضری دینے اور دعاؤں کی درخواست کرنے لگے۔آپ کی چھلڑ کیاں تھیں اور اب تک اولا دنرینہ سے محروم تھے حضرت اقدس کی دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹا عطا فرمایا جس کا نام حضور علیہ السلام نے محمد عزیز الدین رکھا۔اس خدائی شان کو دیکھ کر خاندان کے سب چھوٹے بڑے سجدات شکر بجالائے۔یہ ۲۲ جون ۱۸۸۸ء کی بات ہے۔حضرت مولوی محمد عزیز الدین صاحب نے اپنے والد مکرم کے زیر سایہ ور ٹینکر مڈل کا امتحان ، بعد میں میٹرک تک تعلیم قادیان دارالامان میں حاصل کی تھی۔آپ کو حضرت مصلح موعود، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے ہم مکتب ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔حصول تعلیم کے بعد ریلوے میں ملازم ہو گئے اور ہندوستان میں کئی مقامات پر اسٹیشن ماسٹر کے فرائض بجالاتے رہے اور ہر جگہ اپنے علم، اخلاق اور تقویٰ سے لوگوں کو گرویدہ اور فریفتہ بنایا۔