تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 200
تاریخ احمدیت۔جلد 22 200 سال 1963ء اسلام اور احمدیت خدا تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے ہر ملک میں پھیل چکے ہیں اور جس ملک میں بھی جو احمدی رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا اُن کو یہی حکم ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک کے وفادار رہیں اور اپنی اپنی حکومتوں کے قوانین کی پابندی جزء ایمان سمجھیں۔اگر اسلام ہمیں یہ زریں ہدایت نہ دیتا تو دنیا میں فساد عظیم بپا ہو جاتا۔اسلام تو ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :۴۲) کے وقت آیا اور اس کی نیک اور پاک تعلیم اور اصلاح و آشتی کے پیغام نے ہرقسم کے فتنہ فساد کی جڑیں اکھاڑ کر رکھ دیں اور دنیا کو امن ، سلامتی اور صلح اور آشتی کا ایک بے مثل ایک انمول اصول سکھایا اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس زریں اصول پر کار بندر ہیں۔اور اپنے عمل سے اس پاک اصول کے حسن اور دلکشی کو دنیا پرا جا گر کریں۔خدا تعالیٰ ہمارے اور آپ کے ساتھ ہو اور رحمتوں اور عنایات سے ہمیشہ سب کو نوازتا رہے اور ہمیں ہر دکھ اور درد سے بچائے اور ہر شریر کی شرارت سے ہمیں پناہ میں رکھے کہ وہی ہمارا ملجاء و مالوی ہے۔وہی ہماری پناہ ہے وہی رب جو رحمن اور رحیم بھی ہے۔اور ذوالجلال والا کرام بھی۔آمین۔یا رب العالمین۔فقط خاکسار مرزا ناصر احمد۔ناظر خدمت درویشاں ۱۵ دسمبر ۱۹۶۳ء قافلہ قادیان ۱۹۶۳ء 254 ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ناظر خدمت درویشان کی طرف سے قادیان کے سالانہ جلسہ پر جانے والے احباب کے لئے ۶ دسمبر ۱۹۶۳ ء کی الفضل میں اعلان شائع کروایا گیا کہ قادیان کے لئے قافلہ انشاء اللہ تعالیٰ لاہور سے ۷ دسمبر ۱۹۶۳ء بذریعہ ریل روانہ ہو گا۔اہل قافلہ کے قیام کا انتظام جو دھامل بلڈنگ متصل رتن باغ میں کیا گیا تھا۔نیز امیر قافله قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ نمبر ۴ میکلوڈ روڈ لاہور کو مقرر کیا گیا۔اور صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب جوائنٹ امیر مقرر کئے گئے۔نوٹ: اس جلسہ سالانہ پر جانے والے احباب کی فہرست الفضل ۶ دسمبر ۱۹۶۳ء صفحه ۴ - ۵ پر شائع شدہ ہے۔جس کے مطابق دوسو (۲۰۰) احباب اس موقع پر قادیان گئے تھے۔