تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 199 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 199

تاریخ احمدیت۔جلد 22 199 سال 1963ء حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عاشق صادق کی تم پر بڑی ہی لطف و عنایات ہیں۔پس اپنے دلوں کو شکر و امتنان کے جذبات سے ہمیشہ لبریز رکھو اور اپنے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفسوں پر ایک موت وارد کرو تا تم ایسے طور پر زندہ کئے جاؤ جس کے بعد کوئی فنانہیں اور اپنے مالوں اور اپنے وقتوں اور اپنی طاقتوں اور اپنی عزتوں اور اپنے جذبات کو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے وقف کر دو کہ اس کے بعد تمہیں کوئی گھانا اور نقصان نہیں۔اور اُسی کے ہو جاؤ اور اُسی کے لئے ہو جاؤ تا آسمانی رحمتوں، برکتوں ، نصرتوں اور تائیدات کے دروازے تم پر کھولے جائیں اور ایک ابدی عزت تمہیں حاصل ہو اور اپنے رب کی نگاہ میں آسمان پر تم وقار پاؤ۔جیسا کہ اس خدائے ذوالا قتدار کے وقار کو اس زمین پر قائم کرنے کے لئے تم نے اپنی زندگیوں کا ہر لمحہ وقف کر رکھا ہے۔خدائی صفات کے مظہر بننے کی کوشش میں لگے رہو کہ اس نے انسان کو اپنی شکل پر پیدا کیا ہے۔مگر بے وقوف اور بد بخت انسان تکبر و غرور ، شعوری خود پسندی، نخوت اور اسی طرح کے دیگر گناہوں یا غفلتوں اور کوتاہیوں سے اپنے چہرے کو داغدار کر لیتا ہے مگر تم ہر وقت چوکس اور بیدار ہوتا شیطان کسی بھی خفیہ سوراخ سے تمہارے دلوں، تمہارے خیالات یا تمہارے اعمال میں راہ نہ پاسکے۔اور تمہارا وجود جیسا کہ خدا چاہتا ہے اور جیسا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا ہے۔اور جیسا کہ مسیح موعود و مہدی معہود کی خواہش سے خدا نما آئینہ بن جائے۔اور تم واقعی اور حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ کی تمام صفات کے مظہر بن جاؤ۔اور وہ تم سے راضی ہو اور تم اس سے۔یہ بھی یا درکھو کہ ہمارا خدا تعالیٰ رب العالمین ہے۔اس کی ربوبیت نے ہر نیک و بد اور مومن و کافر کو اپنی ربوبیت کی چادر میں لیا ہوا ہے۔پس تمہاری ربوبیت سے بھی کوئی شخص باہر نہ رہے۔اپنے ہمسایوں سے الفت و شفقت سے پیش آؤ۔کیا ہندو اور کیا سکھ اور کیا دہر یہ اور کیا دوسرے مذاہب والے سب کے سب ہی تمہاری ہمدردی غمخواری اور خیر خواہی سے پورا پورا حصہ لیں۔سب سے نیک سلوک کرو۔ان کی دنیوی ترقیات کے لئے کوشش کرو اور ان سے اخلاق سے پیش آؤ۔ان کے دکھوں میں برابر کے شریک ہو ان کی تکالیف دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرو۔غرضیکہ ہر رنگ میں ان کے بچے خیر خواہ بن جاؤ اور اپنی راتوں کو متفرعانہ دعاؤں کے ساتھ اپنے رب سے ان کی دین اور دنیا کی بھلائی چاہو۔تا تمہارا عمل زندہ گواہ ہو۔اس بات کا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی طور پر اور حقیقی معنوں میں رحمۃ للعالمین ہیں۔