تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 201 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 201

تاریخ احمدیت۔جلد 22 جلسہ سالانہ ربوہ 201 سال 1963ء اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ کا بہترواں جلسہ سالانہ ۲۶ دسمبر کو شروع ہوکر ۲۸ دسمبر کی شام کو ہرلحاظ سے نہایت کامیابی سے اور غیر معمولی آسمانی تائید و برکات کے ساتھ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوگیا الحمدللہ۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ شمع احمدیت کے پروانے اس سال پہلے سے بھی زیادہ تعداد میں جوق در جوق اپنے روحانی مرکز میں جمع ہوئے حتی کہ ان کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ پہنچ گئی۔نہ صرف ملک کے کونے کونے سے بلکہ دنیا کے دور دراز ممالک سے بھی احباب نے دیوانہ وار اپنے اس مقدس روحانی اجتماع میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کی۔جلسہ سالانہ میں جو موجودہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق نہایت بلند پایہ اہم دینی، علمی، اخلاقی اور تربیتی تقاریر پر مشتمل تھا، سلسلہ کے متعدد بزرگوں اور جید علماء نے حصہ لیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے کم و بیش تمام تقاریر ہی بہت ایمان افروز نہایت ضروری اور ذہنوں اور روحوں کو جلا بخشنے والی تھیں۔اس سال بھی ہر شب با قاعدگی کے ساتھ مسجد مبارک میں نماز تہجد باجماعت ادا کی گئی۔شدت کی سردی کے باوجود دور ونزدیک کے احباب اتنی کثرت سے نماز تہجد میں شریک ہوتے رہے کہ مسجد مبارک اپنی وسعت کے باوجود نا کافی ثابت ہوتی رہی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا پوری بستی نے ہی نیند سے بیزار ہوکر مسجد کا رخ کرلیا ہے۔گوحضور انور علالت طبع کے باعث پہلے کی طرح سب دوستوں سے ملاقاتیں نہیں فرما سکتے تھے تاہم جلسہ کے ایام میں قریباً روزانہ احمدی جماعتوں کے محدود افراد کو حضور انور کی خدمت میں حاضر ہونے اور حضور کی زیارت کرنے کا شرف حاصل ہوتا رہا۔سید نا حضرت مصلح موعود نے علالت طبع کے باوجود اس مبارک اجتماع کے لئے دو انقلاب انگیز پیغامات دیئے جن سے شمع خلافت کے پروانوں کو زبر دست قوت عمل بخشی اور قافلہ احمدیت غیر متزلزل ایمان وعرفان کے پر چموں کو لہراتے ہوئے اپنی منزل مقصود کی طرف گامزن ہو گیا۔