تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 169 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 169

تاریخ احمدیت۔جلد 22 169 سال 1963ء امر نائیجیریا میں آئینی اختلاف کے پیش نظر ہو گو فی الحقیقت رجسٹریشن اس وقت عمل میں آئی جب حکومت نے ۱۹۵۳ء میں ماؤ ماؤ ایمر جنسی نافذ کرتے ہوئے ہر سوسائٹی کے لئے رجسٹریشن لازمی قرار دے دی۔ربوہ کے ساتھ تعلق مشرقی افریقہ کے طلباء کے ذریعہ مستحکم ہوا جن میں سے آٹھ ۱۹۵۹ء میں ربوہ میں زیر تعلیم تھے۔(شیخ ) مبارک احمد (صاحب) نے ۱۹۳۶ء میں سواحیلی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنا شروع کیا۔قرآن کریم کی تفسیر بھی لکھی گئی جو ( حضرت مرزا) محمود احمد صاحب کی تحریرات پر مبنی ہے جس میں عیسائیت سے متعلق روایتی مناظرانہ رنگ ہے ( دراصل صاحب مقالہ اس پر خفا ہیں کہ سواحیلی ترجمہ وتفسیر قرآن میں پادریوں کے وساوس و اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب کیوں دیا گیا)۔قرآن کریم کا یہ ترجمہ ۱۹۵۳ء میں دس ہزار کی تعداد میں طبع ہوا (ماہنامہ ) ریویو آف ریلیجنز نے مئی ۱۹۵۵ء میں لکھا کہ پہلا ایڈیشن قریب الاختتام ہے اور دوسرا جلد شائع ہو جائے گا جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ۱۹۵۹ء میں اس کے چار ہزار نسخے ابھی سٹاک میں موجود تھے ( مقالہ نویس اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے )۔افریقن اور پاکستانی ممبران پر مشتمل کمیٹی نظر ثانی شدہ ایڈیشن تیار کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔سواحیلی ترجمہ قرآن کے نسخے ہولا جیل اور دوسرے جیل خانوں میں بھجوائے گئے جہاں ماؤ ماؤ قیدی زیر حراست ہیں۔لو گنڈا، کیکیو اور کا مبازبانوں میں قرآن کریم کے ترجمہ کا کام شروع ہو چکا ہے۔( شیخ ) مبارک احمد صاحب نے اپنی آمد کے چند سال بعد ایک سواحیلی اخبار شائع کرنا شروع کیا جس کی ماہوار اشاعت آج بھی جاری ہے۔۱۹۵۷ء میں (مرکز) ربوہ کی ہدایت کے مطابق آپ نے انگریزی اخبار ایسٹ افریقن ٹائمز کا اضافہ کیا جواب ہر دو ہفتہ بعد شائع ہوتا ہے۔ایک اخبار یوگنڈا میں بھی شائع ہوتا ہے۔ان سب اخبارات کو پاکستانی ( مبلغین ) ترتیب دیتے ہیں۔اخبار ”ایسٹ افریقن ٹائمنز اپنے ہمعصر مغربی افریقہ کے اخبار ٹروتھ کی نسبت بہتر پر چہ ہے۔اور زیادہ معقول حقیقی خبریں، مذہبی پراپیگنڈہ اور نزاعی امور بہتر طباعت کے ساتھ شائع کرتا ہے۔(مشن کی طرف سے) چند ایک پمفلٹ بھی شائع ہوئے ہیں۔مثلاً حکیم (فضل الرحمن صاحب کی تصانیف لائف آف محمد کا سواحیلی ترجمہ بیشتر پمفلٹ سواحیلی زبان میں ہیں جبکہ دوسری