تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 170
تاریخ احمدیت۔جلد 22 170 سال 1963ء زبانوں میں بھی شائع شدہ ہیں۔یہاں تحریر و تصنیف اور ترجمہ کا کام مغربی افریقہ کی نسبت زیادہ متحرک انداز میں جاری ہے۔بعض مبلغین سواحیلمی سیکھ چکے ہیں اور چندا فریقن احمدی دینی امور میں پختہ کار ہو چکے ہیں تا کہ اشاعت کا کچھ کام اُن کے ہاتھوں میں منتقل کیا جاسکے۔متعصب اور کٹر مخالفت شدید قسم کی معلوم ہوتی ہے۔(شیخ ) مبارک احمد صاحب کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے ٹیو را کا سکول بند ہوا۔جماعت احمدیہ کے سواحیلی ترجمہ قرآن پر کٹر لوگوں کی تنقید کے جواب میں سواحیلی زبان میں ایک پمفلٹ تحریر کیا گیا ہے۔( آخری پیراگراف میں جماعتی مساعی اور سواحیلی ترجمہ قرآن کی وقعت و عظمت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا مقصد مغربی کلیسیا سے مجاہدین احمدیت کی یلغار کی ہیبت دور کرنے کے سوا کچھ نہیں)۔الشیخ محمود شلتوت کا بیان جماعت احمدیہ کی نسبت ممباسه ( مشرقی افریقہ) کے ڈائریکٹر آف اسلامک مشن اور ممباسہ کی مشہور درسگاہ ” تہذیب مسلم سکول کے پرنسپل جناب اے کے الشیخ العلوی صاحب اس سال قریباً سات ماہ تک مصر کی یو نیورسٹی الازھر میں قیام پذیر رہے۔اس دوران آپ کی ازھر یو نیورسٹی کے ریکٹر شیخ الا زھر الاستاذ محمود شلتوت سے بھی ملاقات ہوئی انہوں نے بڑے جذبہ سے اور پر زور انداز میں فرمایا کہ احمدی ہمارے مسلمان بھائی ہیں وہ اسی کلمہ طیبہ پر ایمان و اعتقا در کھتے ہیں جن پر ہمارا اعتقاد و ایمان ہے۔چنا نچہ الشیخ العلوی نے واپس پہنچ کر پر لیس کو حسب ذیل بیان دیا۔"I spent about 7 months at the Al Azhar University of Egypt, where I came in contact with many eminent Shaikhs possessed of great knowledge of Islamic faith۔But the personality which impressed me most was that of Shaikh Mahmud al Shaltoot, Rector of the university۔A highly gifted scholar of Islam and an authority on Muslim Jurisprudence, the Shaikh is a fearless exponent of his views and convictions۔To a question I put to him as to what he