تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 168
تاریخ احمدیت۔جلد 22 168 سال 1963ء اداروں سے ریسرچ میں امداد لی اور بالآخر اس سال ۱۹۶۳ء میں انہوں نے Ahmadiyyah کے نام سے اپنا مقالہ شائع کر دیا۔اس کتاب کے آخر پر انہوں نے مشرقی افریقہ میں جماعت کی تبلیغی مساعی پر ایک خصوصی نوٹ دیا جس میں احمدیہ مشن مشرقی افریقہ کی بنیاد، ابتدائی مبلغ، بورا اور ٹانگانیکا کی مساجد کی تعمیر ،اخبارات کی اشاعت اور سواحیلی ترجمہ قرآن اور دوسرے اسلامی لٹریچر کی اشاعت پر مستشرقین کے مخصوص انداز اور لب ولہجہ میں روشنی ڈالی ہے۔اس نوٹ کا ترجمہ درج ذیل ہے۔مشرقی افریقہ میں احمدیت مشرقی افریقہ کے ساحل پر قدم رکھنے والے اولین مبلغ جو ممباسہ میں ۱۹۳۴ء کے دوران اترے (شیخ) مبارک احمد (صاحب) ہیں جو اب بھی مشرقی افریقہ کے صوبہ کے انچارج ہیں۔آپ مشرقی افریقہ میں مقیم ایشیائی احمدیوں کی درخواست پر آئے جنہوں نے آپ کے اخراجات ادا کئے۔سب سے پہلے ٹبورا میں ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا جہاں ۱۹۴۲ء میں خاص اہمیت کی حامل مسجد کی تعمیر شروع ہوئی جو ۱۹۴۴ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔(احمدیہ مسجد مشرقی افریقہ کا انداز مغربی افریقہ کی (مسجد کی) نسبت زیادہ مشرقی ہے۔جہاں صرف سالٹ پانڈ کی مسجد کے مینار ہیں )۔ٹورا میں ایک پریس قائم کیا گیا لیکن اسے بند کرنا پڑا۔مشن کی توسیع کے ساتھ کئی مبلغین مدد کے لئے آئے۔ایک تو جنگ ( عظیم ثانی) کے دوران اور مزید کئی اس جنگ کے معا بعد۔نیروبی ، ممباسہ، کسومو، دار السلام اور جہ میں مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور ساتویں مسجد کمپالا میں زیر تعمیر ہے جماعت کا مرکز ٹور سے نیروبی منتقل ہو چکا ہے۔سکول مساجد کے قدم بہ قدم قائم نہ ہو سکے۔ٹیو را میں سب سے پہلا سکول بند ہو گیا۔البتہ جہ میں دوسر اسکول کھل گیا ہے۔احمدیوں نے حکومت کو یہ تحریک کرنے کی جد و جہد کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے سکول قائم کرے۔اس سلسلہ میں جماعت نے ٹرسٹی شپ کونسل سے ۱۹۵۶ء میں احتجاج کیا۔(جماعتی تنظیم مغربی افریقہ کی نسبت زیادہ وحدانی طرز کی ہے (شیخ ) مبارک احمد صاحب سارے مشرقی افریقہ کے واحد امیر ہیں اور وہ ربوہ (مرکز ) کے سامنے براہ راست جوابدہ ہیں (یہی حیثیت ہر مشنری انچارج کی ہوتی ہے )۔جماعت احمدیہ ، حکومت کے ہاں تینوں سابقہ برطانوی علاقوں ( کینیا، یوگنڈا ، ٹانگانیکا) میں خلافت کی فوقیت (خلافت کی برتری سلسلہ احمدیہ کے عالمی نظام کا لازمی جزو ہے) کے خصوصی تذکرہ کے ساتھ رجسٹرڈ شدہ ہے۔شاید یہ