تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 167
تاریخ احمدیت۔جلد 22 167 سال 1963ء بکثرت شریک ہو کر تقاریر سے مستفید ہوتے رہے اور سوال و جواب کے ذریعے اپنے شکوک رفع کراتے رہے۔اس اعتبار سے بھی یہ دورہ بہت کامیاب ثابت ہوا۔تیسری غرض یہ تھی کہ وہاں کی غیر مسلم آبادی تک پیغام اسلام پہنچانے کا انتظام کیا جائے بالخصوص عیسائیوں کی سرگرمیوں کا مقابلہ کیا جائے چنانچہ اس دورہ میں ہمیں بچشم خود وہاں کے حالات کا جائزہ لینے اور ایک حد تک سروے کا موقع ملا۔چٹا گانگ کے علاقہ میں بدھ خانقاہوں میں گئے۔اور ان کے مہنتوں سے ملاقات کی اور نیز عیسائی مرکز (Island of Peace) کو بھی دیکھا۔اس سروے کے نتیجہ میں مجھے شدید احساس ہوا کہ ہمیں ان غیر مسلم اقوام میں تبلیغ کا ایک منصوبہ تیار کرنا چاہئیے اور پھر اسے عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھنی چاہئیے چنانچہ جلسہ سالانہ کی آخری تقریر میں اس منصوبہ کا میں نے اعلان کیا کہ ہر آئندہ دس سال کے اندر اندر کم از کم دو لاکھ غیر مسلموں کو حلقہ بگوش اسلام بنائیں گے اس کے لئے ہمیں اپنے وسائل کو مجتمع کر کے اس کے لئے بھر پور کوشش کرنا ہو گی مشرقی پاکستان کے احباب نے اس منصوبہ کا گرم جوشی سے استقبال کیا ہے۔میں خدا تعالیٰ کے سلوک اور اس کے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے امید رکھتا ہوں کہ اگر ہم پورے اخلاص اور جذبہ سے کام کریں تو دو لاکھ ہی نہیں دس پندرہ لاکھ غیر مسلم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو سکتے ہیں۔اس کے لئے ہمیں اپنے اموال، اپنے اوقات ، اپنی جانیں وقف کرنا ہوں گی۔پورے علاقے کا سروے کر کے وہاں کی ضروریات کا جائزہ لینا ہوگا اور پھر مختلف علاقوں میں مراکز قائم کر کے مبلغین بھجوانے ہوں گے۔اس ضمن میں میری استدعا یہ ہے کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مشرقی پاکستان کے احباب کو اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کے دل میں تبلیغ اسلام کی لگن تیز سے تیز تر ہوتی جائے۔ان کی زبانوں میں اثر پیدا ہو وہ آرام سے نہ بیٹھیں اور چین سے نہ سوئیں جب تک کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر لاکھوں لاکھ غیر مسلموں کو حلقہ بگوش اسلام نہ بنالیں۔مشرقی افریقہ میں احمدیوں کی جد وجہد مسٹر ایچ۔جے۔فشر کی نظر میں 211 مسٹر ایچ بے نشر (Mr۔Humphrey J۔Fisher) کو ۱۹۵۸ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے مغربی افریقہ بھجوایا گیا۔مسٹر فشر نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے احمدیت کا مضمون منتخب کیا وہ تین ماہ سے زائد عرصہ تک مغربی افریقہ میں ٹھہرے اور سرکاری اور غیر سرکاری