تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 154
تاریخ احمدیت۔جلد 22 154 سال 1963ء مکتوبات حضرت قمر الانبیاء کی نگارشات میں آپ کے مکتوبات کو بھی نہایت درجہ اہمیت حاصل ہے۔آپ کے بعض اہم خطوط جناب ملک صلاح الدین صاحب نے ” مکتوبات اصحاب احمد جلد اوّل ( مطبوعہ محبوب المطابع الیکٹرک پریس جامع مسجد د بلی اگست ۱۹۵۲ء) ( صفحه ۸ تا ۹۲)، جلد دوم (مطبوعہ لاہور آرٹ پریس لاہور ) میں اور مکرم مولانا شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی نے ”سوانح حیات حضرت قمر الانبیاء مطبع نقوش پریس لاہور ۱۹۶۴، صفحہ ۲۴۴ تا ۲۸۵ میں شائع کر دئے ہیں۔اسی طرح حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے نام آپ کے روح پرور خطوط الفضل ۲۹ اکتو بر ۱۹۶۳ء صفحہ ۱۱ ۱۳ میں اور جناب میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے نام آپ کے بعض خطوط الفضل ۲۶ اکتو بر۱۹۶۳ء صفحہ ۵ میں چھپ چکے ہیں۔۱۹۲۵ء میں آپ نے ایک اہم مکتوب حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے نام لکھا تھا جسے حضرت سیدہ نے الفضل سالا نہ نمبر ۱۹۶۳ء میں محفوظ کر دیا۔حضرت قمر الانبیاء نے بعض قیمتی مکتوب حکیم عبداللطیف صاحب شاہد گجراتی کو لکھے تھے جبکہ آپ نے انہیں ۱۹۶۲ء میں اپنی طرف سے حج بدل کے لئے بھجوایا تھا۔یہ مکتوبات بھی الفضل ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۳ء میں شائع شدہ ہیں علاوہ ازیں آپ کے سوانح نگار مولانا شیخ عبد القادر صاحب ( سوداگر مل ) مربی سلسلہ احمدیہ نے آپ کے بہت سے مکتوبات حیات بشیر ( صفحه ۲۹۶ تا ۳۲۴) میں ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کر دیئے ہیں۔آپ کے متعدد خطوط ماہنامہ ”الفرقان قمر الانبیاء نمبر (اپریل مئی ۱۹۶۴ء) میں شائع شدہ ہیں۔تاہم آپ کے بیش قیمت خطوط ومراسلات کا بیشتر حصہ ابھی تک نایاب اور غیر مطبوعہ شکل میں ہے اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ انمول خزانہ اب کہاں کہاں موجود ہے اور کہاں تک زمانہ کی دست برد سے بچ سکا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی سوانح حیات پر مطبوعہ لٹریچر حضرت صاحبزادہ صاحب کے وصال کے معابعد آپ کی مندرجہ ذیل سوانح عمریاں شائع ہوئیں: (1) ”حیات بشیر (مرتبہ مولانا شیخ عبد القادر صاحب سابق سوداگر مل ، کل صفحات ۵۰۴)، یہ کتاب سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر میں بیش بہا اضافہ ہے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی مستند مفصل اور جامع سوانح کی حیثیت سے ہمیشہ یادگار رہے گی اور کوئی سوانح نگار اور مورخ حضرت قمر الانبیاء کی سوانح حیات پر قلم اٹھاتے ہوئے اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔کتاب کا دیباچہ حضرت چوہدری محمد