تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 135 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 135

تاریخ احمدیت۔جلد 22 135 سال 1963ء گزرتے رہے جس پر سے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عشاق کا قافلہ گزرا تھا۔اپنے خادموں پر ایسی شفقت تھی اور ان کے مقام کو ایسا اٹھاتے تھے کہ وہ برابر کرسیوں اور پلنگوں پر بیٹھتے تھے یہاں تک کہ گھر کے بعض افراد کبھی شکوے کے رنگ میں یہ کہہ دیتے تھے کہ میاں صاحب نے نرمی کر کر کے نوکروں کا دماغ خراب کر دیا ہے کوئی کہتا تھا کہ آپ کے نوکر بدتمیز ہو جاتے ہیں مگر حضرت میاں صاحب نے کبھی ان امور کی پرواہ نہیں کی اور کبھی اسوۂ رسول کی پیروی میں پشیمان نہیں ہوئے۔ایک دفعہ مجھ سے فرمایا کہ کبھی کبھی یہ بھی ہونا چاہیے کہ نوکروں کو میز پر بٹھا کر مالک انہیں کھانا کھلائیں تاکہ نفس کے تکبر کا کیڑا ہلاک ہو جائے۔تکبر سے شدید نفرت تھی اور طبیعت ایسی منکسر اور عاجز تھی کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔نوکر تو خیر نوکر ہیں آپ کے خادم بشیر نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ قادیان کی ایک بوڑھی خاکرو بہ سلام کے لئے حاضر ہوئی اور زمین پر بیٹھنے لگی تو آپ نے فرمایا اٹھو کرسی پر بیٹھو۔اور وہ عورت جسے گھر کے ایک خادم کے سامنے بھی کرسی پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی اور جس کی ساری عمر خاک میں لتھڑے ہوئے گزری اسے با اصرار آپ نے کرسی پر بٹھایا اور بشیر سے کہا کہ قادیان سے آئی ہے۔پرانی خادمہ ہے۔اس کے لئے چائے لاؤ لیکن اس نے یہ کہہ کر ابھی فلاں کے گھر سے چائے پی کر آئی ہوں معذرت پیش کر دی۔پھر آپ بڑی ہمدردی سے کافی دیر تک اس کے حالات پوچھتے رہے۔ذرہ نوازی کی ایسی مثالیں ہر زمانہ میں ہی کم ملتی ہیں مگر آج کی دنیا میں تو خصوصاً اخلاق کے یہ انمول مظاہرے عنقا ہوتے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔پس جب میں نے بشیر سے یہ واقعہ سُنا تو حضرت میاں صاحب کے لئے دل سے خود بخود ایک بے اختیار دعانکلی۔ایک ایسی دعا جو ایک غیر ارادی حرکت کی طرح دل سے پھوٹتی ہے۔اب ایسے ذرہ نواز ، ایسے منکسر المزاج وجود ہم میں کتنے رہ گئے ہیں جو ہیں خدا انہیں سلامت رکھے اور جو گذر گئے انہیں اپنی رحمتوں کے سائے تلے جگہ دے۔آمین۔اس عادت سے سخت چڑتے تھے کہ کوئی بزرگ اصرار کے ساتھ کوئی چیز دے اور اگلا انکار کرتا رہے کہ نہیں مجھے ضرورت نہیں۔کبھی آپ کھانے کے لئے کسی بچہ کو پیار سے کچھ دیتے تھے اور وہ یہ کہہ دیتا تھا کہ نہیں میرا پیٹ بھرا ہوا ہے یا میں کھا کر آیا ہوں تو آپ سخت نا پسند فرماتے۔آپ کہا کرتے تھے کہ مقصود صرف کھانا نہیں ہوا کرتا بلکہ محبت کی ایک پیشکش کو قبول کرنا اصل چیز ہے خصوصا جب کوئی بزرگ اظہار شفقت کے طور پر کوئی چیز دے تو برکت کے خیال سے اسے ضرور نعمت سمجھ کر قبول کرنا