تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 134 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 134

تاریخ احمدیت۔جلد 22 134 سال 1963ء لئے فیس لینے کا تو کیا سوال بار ہا مقدمہ کے اخراجات بھی پلہ سے دینے پڑتے تھے۔ابھی چند دن کی بات ہے کہ ایک ملنے والی افسوس کے لئے آئی اور بڑی حسرت سے یہ کہا کہ تمہارے ہاں افسوس کے لئے آئی ہوں مگر حق یہ تھا کہ تم لوگ یعنی حضرت میاں صاحب کے خاندان کے افراد ہم بے کسوں سے افسوس کرتے۔تمہارے تو گھر رستے بستے رہیں گے اور تمہیں دنیاوی سہاروں کی بھی کمی نہیں مگر ہم مشکل کے وقت کس سے دُکھڑے کیا کریں گے۔کس سے مشورے مانگیں گے۔اُس نے یہ کہا اور دلی درد سے اس کی آواز بھتر اگئی اور میں سوچنے لگا کہ ٹھیک ہی تو کہتی ہے آج ایک بیکسوں کا سہارا دردمند مشیر ہم میں باقی نہیں رہاوہ جس کے فیض کا دروازہ سب پر یکساں کھلا تھا وہ پیارا و جود وہ بہت ہی پیارا وجود جاتا رہا۔اس وقت مجھے آپ کی موت ایک دفعہ پھر محسوس ہوئی۔اس میں کچھ شک نہیں کہ ہر خلا کا بھیانک پن اس وجود کی عظمت اور چمک دمک سے براہ راست نسبت رکھتا ہے جس کے کھو جانے سے وہ خلا پیدا ہوا ہو۔غالب نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎ ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اُداس ہے بعض محبوبوں کے گذر جانے پر چمن اُداس ہو جاتے ہیں اور بعض کے گذرنے پر ویرانے۔مگر خدا کے کچھ فقیر بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے کشکول میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن کی خیرات ہوتی ہے۔جب خدا کے یہ برگزیدہ گذرتے ہیں تو چمنستانوں کو بھی اداس چھوڑ جاتے ہیں اور ویرانوں کو بھی اور بیابانوں کے چہروں سے بھی وحشت برسنے لگتی ہے۔خدا کے خوشحال اور مفلوک الحال بندے یہی تو ہیں جو اس دنیا کی زندگی میں چمنستانوں اور ویرانوں کے مناظر پیش کرتے ہیں۔مصور کائنات نے تصویر کائنات کچھ اسی طرح پر کھینچ رکھی ہے کہ وہ منبع حُسن تو اپنی جگہ پر قائم اور غیر فانی ہے۔مگر آنی جانی ہے ہر وہ صورت جو اس سے فیضیاب ہوتی ہے سب ایک ایک کر کے اٹھتے جاتے ہیں حتی کہ اُس حُسنِ تام کا وہ کامل مظہر بھی باقی نہیں رہا چودہ سو برس پہلے جس کا حسن ایسا چکا تھا کہ اس حسن کا فیض آج تک جاری و ساری ہے۔حضرت میاں صاحب کے اندر بھی جتنی خوبیاں تھیں اُسی فیض رساں کے فیض سے تھیں۔سنتِ رسول کی پیروی کا آپ کو اس قدر اہتمام تھا کہ بار یک در باریک پہلو بھی نظر انداز نہیں فرماتے تھے۔کیا بلحاظ رحم اور کیا بلحاظ عدل اور کیا بلحاظ مساواتِ اسلامی ہر اس روش پر سے ہو کر