تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 136
تاریخ احمدیت۔جلد 22 136 سال 1963ء چاہئیے۔آپ کو اس امر کا اتنا خیال رہتا تھا کہ اگر خواب میں بھی کوئی کسی بزرگ کی دی ہوئی چیز کا انکار کرتا تو آپ سخت تنگی محسوس کرتے۔ایک مرتبہ قادیان میں آپ کی ایک صاحبزادی نے آپ کو اپنی ایک خواب سنائی کہ میں دیکھتی ہوں کہ حضرت اماں جان کھانا کھا رہی ہیں اور میں اور امتہ الباسط (میری ہمشیرہ) کھیلتی ہوئی آپ کے پاس چلی جاتی ہیں۔اماں جان ہمیں کچھ کھانے کے لئے دیتی ہیں تو میں معذرت کر دیتی ہوں کہ اماں جان میرا پیٹ بھرا ہوا ہے اور امتہ الباسط لے کر کھا لیتی ہے۔بس ان کا یہ بیان کرنا تھا کہ حضرت عموں صاحب کا چہرہ غصہ سے تمتما اٹھا اور سخت تکلیف سے کہا کہ یہ تمہاری کیا عادت ہے کہ بزرگوں کا انکار کر دیتی ہو۔اب دیکھو کہ تم ایک برکت سے محروم رہ گئیں اور بار بار یہی کہتے رہے۔انہوں نے بہت احتجاج کیا کہ ابا جان میرا اس میں کیا قصور ہے۔یہ تو خواب تھی اور خواب پر کس کو اختیار ہوتا ہے مگر آپ پھر بھی تأسف کا اظہار کرتے رہے اور فر مایا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ خواب ہے مگر خوا ہیں بھی تو عادت کے مطابق آتی ہیں۔تمہیں عادت ہے کہ جب تمہیں کوئی بزرگ چیز دے تو تم تکلف کرتی ہو اسی لئے تمہیں خواب بھی ویسی ہی آئی ہے۔اس چھوٹے سے واقعہ سے بھی آپ کی سیرت کے کئی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔آپ کی فطری سعادت ، حضرت اماں جان کی محبت اور آپ کے تقدس اور عظمت کا احساس اور بزرگوں سے ہر خیر و برکت کے حصول کی تمنا یہ تینوں ایسی باتیں ہیں جو آپ کی شخصیت کا ایک لازمی جز تھیں۔جہاں تک آسمانی برکتوں کا تعلق ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بھوک نہ مٹنے والی تھی۔بے شمار برکتوں کے وارث ہونے کے باوجوداور باوجود اس کے کہ آپ کا دامن برکتوں سے چوٹی تک بھرا ہوا تھا۔آپ کی حصول برکت کی پیاس بجھنے میں نہ آتی تھی۔توحید صافی کا ایک پاکیزہ سمندر آپ کے سینہ میں موجیں مارتا تھا۔عیاذ باللہ ظاہری تبرکات وغیرہ کو آپ کا باعث برکت سمجھنا کسی تو ہم پرستی یا شرک کی بناء پر نہیں تھا۔آپ موحد تھے۔آپ کے اور شرک کے مابین بعد المشرقین تھا۔آپ کی تو روح تو حید ہی کے پانی پر جیتی تھی۔صدق اور توحید آپ کی روحانی کائنات کے دو غیر متزلزل ستون تھے۔بہت ہی دعا گو اور دعاؤں کی تاکید کرنے والے تھے اور ذاتِ باری تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھتے تھے۔خودسب کے لئے دعا کرتے تھے اور سب سے دعا کے خواہاں تھے۔صحابہ اور دیگر بزرگان سلسلہ کو تو خاص اہتمام سے دعا کے لئے لکھتے رہتے تھے۔ہرا ہم کام سے پہلے استخارہ کرتے تھے اور دوستوں کو بھی اسی کی تلقین فرماتے تھے۔صاحب کشف والہام تھے۔ایک دفعہ مجھ سے ذکر فر مایا کہ عین بیداری