تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 115
تاریخ احمدیت۔جلد 22 115 سال 1963ء بطور افسر تعلیم ، آپ کے زیر انتظام درزی خانہ اور مدرستہ الحفاظ کا اجراء (۱۹۱۹ء) نظارتوں کا قیام اور آپ کا تقرر بحیثیت ناظر امور عامہ (۱۹۲۲ء) قائمقام ناظر اعلیٰ اور ناظر اول کے فرائض کی بجا آوری، پرنس آف ویلز سے ممبر وفد کی حیثیت سے ملاقات (۱۹۲۳ء) افسر صیغه انسداد فتنہ ارتداد ملکانه صدر کمیٹی انتظامات احمد یہ ٹورنامنٹ ، نگران اعلی جلسہ سالانہ ۱۹۲۳ء، (۱۹۲۴ء) بہائی فتنہ کے لئے کمیشن میں بطور ممبر تقر ر سفر یورپ کے دوران امیر ہند حضرت مولانا شیر علی صاحب کی نیابت (۱۹۲۷ء) ناظر تعلیم و تربیت کا منصب، (۱۹۲۸ء) پہلی بار امیر مقامی مقرر ہوئے۔(۱۹۳۱ء) صدرانجمن احمد یہ کے قواعد وضوابط کی تشکیل و ترتیب میں سرگرم اور نمایاں حصہ (۱۹۳۲ء) قائمقام ناظر تالیف و تصنیف کے فرائض کی انجام دہی، (۱۹۳۳ء) دوبارہ ناظر تعلیم و تربیت کے عہدہ پر ، احمد یہ یونیورسٹی کے قیام کی تجویز اور کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے مساعی جمیلہ ، قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ پر نظر ثانی کا آغاز ، حضرت مسیح موعود کے الہامات اور رویاء و کشوف کے مجموعہ کی تیاری میں کمیٹی کی رہنمائی اور اعانت، (۱۹۳۴ء) جائنٹ ناظر بیت المال اور قائمقام ناظر تالیف و تصنیف کے فرائض، امانت فنڈ کمیٹی میں شرکت (۱۹۳۶ء) قائمقام ناظر اعلیٰ کے فرائض ( ۱۹۳۷ء) نظارت تعلیم و تربیت کا چارج (۱۹۳۸ء) مقامی امیر اور قائمقام ناظر اعلیٰ (۱۹۳۹ء ) خلافت جوبلی کے جملہ انتظامات اور لوائے احمدیت کے ڈیزائن سے متعلق کمیٹیوں میں شرکت، ہجری سمسی کیلنڈر کی تیاری میں مصروفیت، (۱۹۴۰ء) انتظامات جلسہ سالانہ کے لئے پہلے رابطہ افسر، (۱۹۴۲ء) انگریزی ترجمۃ القرآن پر نظر ثانی کے لئے بورڈ کا قیام اور بحیثیت ممبر آپ کی شبانہ روز مساعی ، (۱۹۴۴ء) کالج کمیٹی“ اور ”مجلس مذہب و سائنس“ کی صدارت ، (۱۹۴۶ء ) الیکشن حلقہ مسلم تحصیل بٹالہ کے دوران انتظامات کی کامیاب نگرانی ،عبوری حکومت میں قائد اعظم کی شمولیت کے لئے حضرت مصلح موعود کی معیت میں سفر دیلی ( ۱۹۴۷ء) ، ناظر اعلی کی حیثیت میں تقسیم ہند کے موقع پر مختلف اہم خدمات اور حضرت مصلح موعود کی ہجرت پاکستان (۳۱) را گست ۱۹۴۷ء) کے بعد قادیان اور ضلع گورداسپور کے لئے امیر کے فرائض کی بجا آوری۔۲۲ ستمبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان میں تشریف آوری اور صیغہ حفاظت مرکز (بعد ازاں نظارت خدمت درویشاں یہ نام اپریل ۱۹۶۰ء میں تجویز ہوا) کے ناظر کی حیثیت سے نئی ذمہ داریوں کا آغاز (۱۹۴۸ء) دوماہ کے لئے ناظر اعلیٰ کے فرائض (۱۹۵۰ء ) حکومت پاکستان کے فائنینس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے زکوۃ کمیٹی کا تقرر اور جماعت احمدیہ کے ممتاز علماء کے دوش بدوش اس کے لئے مواد کی