تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 116 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 116

تاریخ احمدیت۔جلد 22 116 سال 1963ء فراہمی (۱۹۵۳ء) پاکستان کے دستور اساسی سے متعلق بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات پر جماعتی نقطہ نظر سے غور و فکر اور مفید مشورے، (۱۹۵۵ء) دوسرے سفر یورپ کے دوران حضرت مصلح موعود کے مقرر فرمودہ امیر مقامی (۱۹۶۰ء) مجلس عاملہ انصار اللہ کے رکن خصوصی (۱۹۶۱ء) مجلس افتاء کی ممبری مجلس مشاورت کی پہلی بار صدارت، صدر نگران بورڈ کی حیثیت سے جماعتی سرگرمیوں کی ابتداء، جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مصلح موعود کی املا فرمودہ اختتامی تقریر پڑھنے کی سعادت ، (۱۹۶۲ء) مجلس مشاورت کی دوسری بار صدارت مجلس افتاء کی اعزازی رکنیت، (۱۹۶۳ء) مجلس مشاورت کی تیسری بار صدارت نگران بورڈ کے طویل اجلاسوں کی صدارت اور جماعتی مسائل حل کرنے کے لئے آخری انتھک اور اعصاب شکن جد و جہد۔حضرت قمر الانبیاء کی سرتا پا جہاد زندگی کا یہ نہایت مختصر سا خاکہ ہے جو مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر کے ۱۲ قسطوں پر مشتمل مضمون الفضل از ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۳ء تا ۲ مئی ۱۹۶۴ء کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے ( یہ مضمون مولانا شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ کی کتاب ”حیات بشیر کے پہلے باب کی زینت ہیں)۔اصل مضامین سے آپ کی حیات قدسیہ کی تفصیلات اور آپ کی بے پناہ مصروفیات کا کسی قدر اندازہ ہوتا ہے۔آپ نے ایک دفعہ تحریر فرمایا:۔”میرا ذاتی حال تو یہ ہے کہ میں نے بسا اوقات کئی کئی ماہ تک مثلاً الیکشن ( ۴۵ - ۱۹۴۴ء کا الیکشن جس کے دوران جماعت احمدیہ نے تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کی بھر پور مدد کی تھی ) میں یا ملکی تقسیم کے انقلاب وغیرہ میں دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے کبھی اکیس گھنٹے اور کبھی بائیس گھنٹے اور کبھی تمیس گھنٹے اور کبھی پورے کے پورے چوبیس گھنٹے مسلسل خدمت کا موقع پایا ہے۔(اور یہ محض خدا کا فضل تھا جس نے اُس کی توفیق دی اور کبھی بھی تکان یا کوفت کا احساس تک نہیں ہوا۔سیرت و شمائل پر طائرانہ نظر 192 آپ کی خدا نما شخصیت خلافت کی اطاعت کے لحاظ سے نہایت ارفع واعلیٰ مقام پر فائز تھی اور حضرت مصلح موعود کی ذات مقدس کے بعد پوری جماعت کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز تھی اور آپ کی خوبو، صفات اور جمالی اخلاق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے اور یہی وجہ تھی کہ خدا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو ایک مثالی عشق تھا جو زندگی کے ہر شعبہ اور ہر مرحلہ پر حاوی تھا اور ہر موقعہ پر ایک صاف شفاف چشمہ کی طرح پھوٹ پڑتا تھا۔آپ کی یہ وجدانی کیفیت فطری تھی جو