تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 98 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 98

تاریخ احمدیت۔جلد 22 98 سال 1963ء دوسرے دوستوں نے کئی دفعہ عرض کیا کہ خوا میں تعبیر طلب ہوتی ہیں مگر ان باتوں کا آپ پر قطعا کوئی اثر نہ تھا اور آپ کو موت کے قریب ہونے کا یقین کامل تھا۔۲۴ راگست کے قریب آپ نے صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ” اب تو چل چلاؤ ہی ہے اس طرح ایک خط میں بالوضاحت یہ ذکر فرمایا کہ میری زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر جاری ہوا ہے کہ ؎ بھر گیا اب تو باغ پھولوں سے آؤ بلبل چلیں کہ وقت آیا المختصر آسمانی اشارات، القاء اور رؤیا کی بناء پر آپ کو جناب الہی کی طرف سے قطعی طور پر علم ہو چکا تھا کہ آپ کی واپسی کا وقت قریب آن پہنچا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکے گا۔حتی کہ ماہ جون کے آخر میں آپ نے ربوہ سے روانگی کے وقت اپنی تجہیز و تکفین کے لئے علیحدہ رقم گھر دے دی پھر لاہور سے مزید رقم ارسال فرمائی اور پیغام دیا کہ میری وفات پر دوست آئیں گے۔ان دنوں گھر کے عام خرچ سے زیادہ اخراجات ہوں گے اس لئے یہ رقم بھجوا رہا ہوں ایک روز ایک خط بھی اپنے خادم خاص بشیر احمد صاحب سے لکھوا کر بھیجا جو ایک قسم کا الوداعی خط تھا۔بعض قرائن سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ پر یہ انکشاف بھی ہو چکا تھا کہ آپ اکتوبر سے قبل اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں گے۔چنانچہ ایک بیرون از پاکستان خط کے جواب میں آپ نے لکھوایا کہ آپ نے لکھا ہے کہ آپ لوگ اکتوبر میں پاکستان آئیں گے لیکن اکتوبر میں تو میں یہاں نہیں ہوں گا۔یہ ایک عجیب بات تھی کہ ایک طرف آپ اپنی وفات کی طرف بار بار اشارہ فرما رہے تھے اور احباب سے بھی اس کا ذکر کر رہے تھے مگر دوسری طرف سبھی ڈاکٹر مطمئن تھے اور انہیں اس قسم کا کوئی فوری خطرہ نظر نہ آتا تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ اصل خطرے والی بیماریاں کنٹرول میں ہیں اور شدید گھبراہٹ ور بے خوابی کی تکالیف محض عارضی ہیں بالکل اسی رائے کا اظہار اعصابی امراض کے ماہر (Neurophysician) ایک انگریز ڈاکٹر میلر (Miller) نے بھی کیا جو اتفاقاً اُن دنوں پاکستان سے گزرتے ہوئے آسٹریلیا جا رہے تھے۔۲۸ اگست کو انہوں نے معائنہ کیا۔دیگر معالجین نے بیماری کی پوری سرگزشت سنائی۔خود آپ نے اپنی علالت کے تمام حالات ایک نوٹ کی شکل میں ترتیب وار لکھوائے ہوئے تھے جو ڈاکٹر صاحب نے توجہ سے پڑھے اور پھر دریافت کیا کہ آپ کی