تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 86
تاریخ احمدیت 86 جلد 21 اسی طرح اخبار دی ٹروتھ ہر جمعہ کے روز شائع ہوتا رہا۔ابادان کے مقامی اخبارات نایجیرین ٹریبیون اور Defender میں مسلمانوں کے لئے ہفتہ واری فیچر کالم کے ماتحت خاکسار کے حسب ذیل مضامین شائع ہوئے (1) اسلام کا روشن مستقبل (2) صحرائے اعظم فرانس کے ایٹمی تجربات اور دعاؤں کی اہمیت (3) یہود کا ماضی اور مستقبل۔چار مقامات کا دورہ کیا گیا۔رپورٹ مولوی محمد بشیر صاحب شاد ( مبلغ انچارج شمالی نائیجیریا) ماہ جنوری 1960ء میں خاکسار زاویہ میں مقیم رہا۔یہاں کے ایک کمرشل کالج کے طلباء کی دعوت پر کالج میں تقریر کرنے کے لئے گیا۔خاکسار نے اپنی تقریر میں طلباء کو اسلام کے بنیادی احکام نماز، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ کی فلاسفی سے آگاہ کیا۔اور بتایا کہ یہ امور جہاں ہماری روحانی ترقیات کا باعث ہیں۔وہاں مسلمانوں میں باہم اتحاد تنظیم، اخوت ومحبت، ہمدردی خلق اور غریب پروری کا جذبہ پیدا کرنے کا موجب بھی ہیں۔طلباء کو جماعت سے متعارف کرایا نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد، آپ کے دعوئی اور جماعت کی عظیم الشان اسلامی خدمات سے آگاہ کیا۔تقریر کے بعد سوالات کا موقعہ دیا گیا جس پر طلباء نے جماعت احمدیہ کی تنظیم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ اور دیگر امور کے متعلق دلچسپ سوالات دریافت کئے جن کے جوابات دیئے گئے۔بعد ازاں طلباء میں اخبار ” ٹروتھے اور دیگر لٹریچر تقسیم کیا گیا۔اس موقعہ پر کالج کے چھپیں طلباء خدا تعالیٰ کے فضل سے بیعت کر کے داخل سلسلہ عالیہ احمد یہ ہوئے الحمد للہ۔اس کالج میں اب احمد یہ مسلم ایسوسی ایشن کے قیام کے سلسلہ میں کوشش کی جارہی ہے امید ہے عنقریب ہی اس ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا جاسکے گا۔انشاء اللہ۔زاویہ کے ایک سیکنڈری سکول میں بھی طلباء کی ایک سوسائٹی کی دعوت پر وہاں گیا اور اسلام زندہ مذہب ہے کے موضوع پر تقریر کی۔اس سکول کے دو طالب علم بعد ازاں مشن ہاؤس میں آئے اور بیعت کر کے داخلِ سلسلہ احمدیہ ہوئے الحمد للہ۔میڈیکل سکول کا ایک طالب علم مشن ہاؤس میں آتا رہا اور مختلف سوالات دریافت کرتا رہا اسے تبلیغ کی گئی اور جماعت کے متعلق مسائل سے آگاہ کیا اس طالب علم کو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے عرصہ زیر پورٹ