تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 66 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 66

تاریخ احمدیت 66 مورخہ 29 مئی کو یہودا کے عیسائی مبلغین کے ساتھ چار گھنٹے تک تبادلہ خیالات ہوا۔مؤرخہ 5 جون کو بمقام اکرافو نماز عید پڑھانے گیا جہاں ایک ہزار احباب شریک ہوئے۔مؤرخہ 17 جون کو سیکرٹری ریجنل کمشنر کو زمین کے کاغذات کے سلسلہ میں کیپ کوسٹ جا کر ملا۔مؤرخہ 30 جون کو لفٹینٹ جنرل کے ایم شیخ صاحب وزیر زراعت و خوراک پاکستان جو غانا کے یوم جمہوریہ کی تقریب پر آئے تھے کو ملا۔ہائی کمشنر پاکستان نے ان کے اعزاز میں دی گئی دعوت میں ہمیں بھی مدعو کیا چنانچہ اس تقریب کے موقعہ پر دیگر معززین کے علاوہ وزیر اعظم سیرالیون سفیر لبنان ، سفیر چیکوسلا و یکیه،نمائندہ لائبیریا ،نمائندہ برطانیہ، ہائی کمشنر سیلون، نمائندہ نیوزی لینڈ ، وزیر محنت ملایا سے ملاقات ہوئی۔ان امور کے علاوہ روزانہ قرآن مجید کا درس دیتا رہا۔انتظامی امور کے سلسلہ میں جس میں مجھے پیشتر وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔امیر اور جنرل میجر کی حیثیت سے مختلف فرائض سرانجام دیئے۔خطوط آمده از وزارت تعلیم ، ڈائریکٹران ایجوکیشن ،لوکل کونسلوں، دیگر محکمہ جات حکومت۔گورنمنٹ ٹیچرز ٹرینگ کالجوں، پاکستانی وافریقن مبلغین،اساتذہ سکولز اور دیگر احباب جماعت کی طرف سے موصول شدہ ڈاک کے جوابات دیئے گئے۔عرصہ زیر رپورٹ میں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے 105 افراد داخل سلسلہ عالیہ احمدیہ ہوئے۔فالحمد للہ علی ذالک ہمارے سیکنڈری سکول کے ہیڈ ماسٹر مکرمی صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب اور دوسرے پاکستانی اساتذہ مکرم نذیر احمد صاحب ایم ایس سی اور مکرم منیر احمد صاحب رشید۔سکول کے فرائض کے علاوہ مختلف اوقات میں مختلف احباب سے ملے اور اسلام کے متعلق ان کی غلط فہمیوں کو دور کیا اور تعلیم یافتہ طبقہ کے بعض افراد کو اپنے خرچ پر اسلامی لٹریچر بھی پیش کیا۔ہمارے اکرافو سکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالرحمان صاحب ہیفر ڈ کوحکومت غانا نے buy مجسٹریٹ مقرر کر دیا ہے وہ آسن گوموالوکل کونسل میں اب مجسٹریٹ ہیں۔اشانٹی علاقہ میں مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم کام کرتے ہیں۔ان کی ارسال کردہ رپورٹ درج ذیل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عرصہ زیر رپورٹ میں تبلیغی و تربیتی مساعی میں متعد یہ اضافہ ہوا اور خصوصیت سے مختلف کالجوں میں تقاریر کا موقع ملا۔جلد 21