تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 546
تاریخ احمدیت 546 جلد 21 سامنے سرخرو ہونے کی کوشش کریں۔یا درکھو کہ اسلام اور احمدیت خدا کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس کی قدر و قیمت کو ابھی تک بعض احمدیوں نے بھی پوری طرح نہیں پہچانا۔اور یہ نعمت ساری دنیا کے لئے آسمان سے نازل کی گئی ہے۔پس ہمیں اپنے قدموں کو تیز کر کے اس نعمت کو جلد تر دنیا کے سارے کونوں اور ساری قوموں تک پہنچا دینا چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمام دنیا کے لئے بشارت اور انذار کا پیغام لیکر آئے تھے۔آپ کے الہامات میں ہندؤوں کے لئے بھی بشارت ہے اور مسیحیوں کے لئے بھی بشارت ہے۔اور بدھوں کے لئے بھی بشارت ہے۔اور سکھوں کے لئے بھی بشارت ہے اور دوسری قوموں کے لئے بھی بشارت ہے، بشرطیکہ اور وہ اس حق کو قبول کریں جو خدا نے اس زمانہ کے مامور اور اوتار کے ذریعہ دنیا میں نازل کیا ہے۔پس آج جبکہ نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے۔آپ لوگوں کو چاہئے کہ نئے ولولے اور نئے عزم کے ساتھ اپنے کام کو شروع کریں اور اسلام اور احمدیت کے پیغام کو خاص جد و جہد کے ساتھ جلد تر ساری دنیا تک پہنچا دیں۔مگر ضروری ہے کہ اور یہ ضرورت دن بدن بڑھتی جارہی ہے کہ آپ لوگ تبلیغ اور تربیت کی طرف بھی توجہ دیں اور مردوں اور عورتوں کی تربیت کے علاوہ نئی نسل کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں صحیح تعلیم وتربیت کے ذریعہ وہ روح پیدا کریں جو قوموں کے لئے ترقی کی غیر معمولی بنیاد بنا کرتی ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اپنا ذاتی نمونہ اچھا بنا ئیں۔کیونکہ اچھے نمونہ کے بغیر نہ انسان خود ترقی کرتا ہے اور نہ اگلی نسل ترقی کر سکتی ہے۔نمازوں اور دعاؤں پر زور دیں۔اور خدا کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کریں۔یاد رکھو کہ اسلام نے خدا کو محض ایک خشک فلسفہ کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ ایک زندہ حقیقت اور کی قیوم اور قادر و متصرف ہستی کے طور پر پیش کیا ہے۔اسلام کا خدا وہ ہے جس نے دنیا کو نیستی سے پیدا کیا۔اور اس کے بعد وہی دنیا کے نظام کو چلا رہا ہے۔اور تقدیر کی ساری کنجیاں بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔اور اب اس زمانہ میں اس کی حکیمانہ تقدیر نے تقاضا کیا ہے کہ اسلام کو اسی طرح روحانی رنگ میں ترقی دے جس طرح کہ اپنے دور اول میں اس نے سیاسی رنگ میں ترقی کی تھی اور اسلام کو اپنی روحانی طاقتوں کے ذریعہ ساری دنیا پر غالب کر دے۔مگر خدا کی یہ بھی سنت ہے کہ ہر تقدیر کے ساتھ جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔انسانوں کی تدبیر بھی شامل ہونی ضروری ہوتی ہے۔کیونکہ جس طرح تقدیر آسمان سے زمین پر اترتی ہے، تدبیر زمین سے آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور دونوں کے ملنے سے ایسی طاقت پیدا ہوتی ہے جو دنیا کی کایا پلٹ دیتی ہے۔پس بھائیو! اور بہنو! اپنی ذمہ داری کو پہچانو اور خاص توجہ اور خاص کوشش اور خاص ولولہ اور غیر معمولی نیکی اور تقویٰ اور اسوہ حسنہ کے ذریعہ اسلام کی ترقی کے سامان پیدا کرو۔اس وقت دنیا مادیت کے ماحول میں