تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 547 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 547

تاریخ احمدیت 547 جلد 21 گھری ہوئی روحانیت کے لحاظ سے گویا دم تو ڑ رہی ہے۔آپ کا فرض ہے کہ اس نیم مردہ لاش کو روحانیت کا حیات بخش پیغام پہنچا ئیں اور مرتی ہوئی انسانیت کو ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے بچالیں۔پس تبلیغ کے ذریعہ اور تربیت کے ذریعہ اور دعاؤں کے ذریعہ اور نیک نمونہ کے ذریعہ اور ان روحانی طاقتوں کے ذریعہ جو خدا تعالیٰ نے نیک لوگوں میں ودیعت کر رکھی ہیں۔دنیا سے بدی کو مٹائیں اور نیکی کو ترقی دیں کہ اسی میں آپ کی اور ہماری اور تمام دنیا کی نجات ہے ہم آپ لوگوں کی نیک کوششوں میں روحانی جدوجہد کے لحاظ سے آپ کے ساتھ ہیں مگر جسمانی لحاظ سے ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے کہ۔بلبل سے صحن باغ ہے سے دور اور پروانہ ہے چراغ سے دور اور شکسته شکسته والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ر بوه غیر مسلم صحافی کے تاثرات 26 دسمبر 1962 ء179 جناب لاہوری رام بالی صاحب ایڈیٹر پندرہ روزہ اخبار ” بھیم پتر کا ( جالندھر ) نے قادیان کے عظیم الشان روحانی اجتماع کے بارے میں ایک با عمل جماعت“ کے زیر عنوان حسب ذیل نوٹ سپرد اشاعت کیا :- ملک کی تقسیم سے پہلے ہمارے شہر میں مسلمان تو کافی تھے مگر ان میں ایک احمدی بھی تھے۔اپنی چند خوبیوں کی بدولت سارے ہی شہر میں مشہور تھے۔وہ ہمارے پڑوسی بھی تھے۔اس ناطے میں اکثر ان کے پاس اردو اخبار پڑھنے جایا کرتا تھا۔اس وقت طالب علمی کے دن تھے۔کافی سُوجھ بوجھ تھی نہ گہرا مطالعہ۔لیکن پھر بھی جلسے جلوسوں میں شرکت کرنے کا شوق تھا۔لیکچر سننے سنانے کی دُھن تھی۔گہرا مطالعہ کرنے کو جی چاہتا تھا۔دوسرے لوگ نفرت اور چھوا چھوت کا برتاؤ کرتے تھے۔مگر یہی مسلمان اپنے پاس بٹھاتا تھا۔پڑھنے لکھنے میں مدددیتا تھا۔اس سے اُنس ہونا ایک قدرتی بات تھی۔ملک تقسیم ہو گیا۔ہم بچھڑ گئے لیکن اپنے اس دوست جو احمدیت کا ایک نمونہ تھا کے خط و خال اس کا مدلل اور پر سلیقہ طرز بحث اس کی گہری علمیت اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ۔۔۔۔یہ سب کچھ مجھے اب بھی یاد ہے۔۔۔۔تبھی سے میں ”لائی لگ مومن نالوں کھوجی کافر چنگا کے سدھانت کا قائل ہو گیا۔