تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 522
تاریخ احمدیت 522 جلد 21 اگر روحانیت ہمارے ذرہ ذرہ میں سما گئی تو پھر بشریت بھی نعمت ہے لیکن اگر بشریت ہی حاوی ہوگئی تو روح کمزور ہو کر رفتہ رفتہ ایک بے کار، ناقص اور ناپاکی سے آلودہ چیز ہو جائے گی۔ہماری تو خصوصاً توجہ اس طرف چاہیے کہ روحانیت کو ترقی دیں کیونکہ آپ کے آقا کا ہر پیغام ہم نے دوبارہ تازہ ترین ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا اور آپ کے وجود میں ہی وہی جلسہ دیکھا۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان تھا وہ جو اپنے بندوں کو کبھی بھولتا نہیں۔مگر اب ہمارا یہ فرض ہے کہ شکر گزار بندے بنیں اور دعاؤں ، ذکر الہی سے محبت الہی سے اپنی روح کو زیادہ سے زیادہ جلا بخشنے میں کوشاں رہیں کہ ہماری روحانیت بشریت پر حاوی رہے اور ہماری بشریت بھی ایک بہت نیک نمونہ خلق خدا کے لئے بن جائے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا ریکارڈ شدہ پیغام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی سالانہ اجتماع لجنہ کے لئے بذریعہ ٹیپ ریکارڈ ایک اہم پیغام دیا تھا جو پہلے اجلاس کے آخر میں سنایا گیا۔جو حسب ذیل الفاظ میں تھا :- اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خواتین کرام اور ہمشیرگان۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں ان کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر ٹیپ ریکارڈنگ مشین پر انہیں ایک مختصر سا پیغام دوں۔سوسب سے پہلے تو میں دعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے مرکزی اجتماع کو کامیاب کرے اور اس کے بہترین نتائج پیدا ہوں۔یہ امر بڑی خوشی کا موجب ہے کہ ہماری مستورات میں خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔اور وہ اسلام اور احمدیت کی خدمت میں بڑے شوق اور ذوق سے حصہ لینے لگی ہیں۔اور تعلیم کے حصول میں بھی ان کا قدم تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔عورتیں گو تعداد کے لحاظ سے کسی جماعت یا سوسائیٹی کا نصف حصہ ہوتی ہیں۔مگر اس لحاظ سے ان کے ہاتھ میں قوم کے نونہال پرورش پاتے ہیں۔اور اگلی نسل کی ابتدائی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ان پر ایک طرح سے مردوں کی نسبت بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔اس سےصرف یہی مراد نہیں کہ بچے ماؤں کی خدمت کا ثواب حاصل کر کے اپنے لئے جنت کا دروازہ