تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 523 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 523

تاریخ احمدیت 523 جلد 21 کھول سکتے ہیں بلکہ اس میں یہ بھی لطیف اشارہ ہے کہ ماؤں کی اچھی تربیت کے نتیجہ میں ساری قوم کا قدم ہی جنت کی طرف اٹھ سکتا ہے۔پس میں لجنہ کی ممبرات کو جو ہماری بہنیں اور بیٹیاں ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ آئندہ پہلے سے بھی زیادہ ذوق وشوق سے کام لیں اور دین کی خدمت کا ایسا نمونہ دکھائیں جو حقیقتا عدیم المثال ہو۔عورت ایک بڑی عجیب وغریب ہستی ہے۔ایک طرف وہ اپنے حسن تدبر اور خدمت اور محبت کے ذریعہ اپنے خاوند کا گھر اس کے لئے جنت بنا سکتی ہے۔اور دوسری طرف وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی اچھی تربیت کر کے جماعت کی عالی شان خدمت سر انجام دے سکتی ہے۔مجھے یہ خوشی ہے کہ جماعت میں مستورات کے اندر تعلیم کے لحاظ سے بہت بیداری پائی جاتی ہے۔مگر میرا یہ احساس ہے خدا کرے کہ وہ غلط ہو کہ ابھی تک جماعت کی مستورات کو تبلیغ کی طرف اتنی توجہ نہیں جتنی کہ ہونی چاہیے۔اگر احمدی عورتیں تعلیم کی طرح تبلیغ کی طرف بھی زیادہ توجہ دیں تو خدا کے فضل سے ان کے ذریعہ بہت جلد بھاری تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔میری دعا ہے کہ لجنہ اماءاللہ جلد تر اس مقام کو حاصل کرے جس میں وہ نہ صرف تعلیم کے میدان میں بلکہ تبلیغ اور تربیت کے لحاظ سے بھی ایک مثالی تنظیم بن جائے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ 19 اکتوبر 1962 ، 132 اجتماع انصاراللہ 1962 ء اور حضرت مصلح موعود کا ایمان افروز پیغام حسب دستور خدام ولجنہ کے اجتماعات کے بعد 26-27-28اکتوبر 1962ء کو انصار اللہ کا مرکزی اجتماع منعقد ہوا جسمیں 188 مجالس کے 980 ارکان 462 نمائندگان اور 1815 زائرین نے شرکت کی۔168 سید نا حضرت مصلح موعود کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ہی نے موثر خطاب اور پرسوز اجتماعی دعا سے اس کا افتتاح فرمایا۔آپ نے انصار اللہ کے مفوضہ کام اور اس کی وسعت و اہمیت پر روشنی ڈالنے کے بعد ارشاد فرمایا:- ”سب سے پہلے اپنے انصار بھائیوں سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس اہم اور نازک کام میں ہم سب کی نصرت فرمائے اور جو کشتی اس نے دنیا کے وسیع سمندر میں آگے دھکیلنے کے لئے ہمارے کمزور ہاتھوں کے سپرد کر رکھی ہے اس کے